مودی حکومت کی انتہا پسندی عروج پر پہنچ گئی

مودی سرکار میں مسلمان لڑکیوں کو تعلیم کے حق سے بھی محروم کردیا گیا۔ کرناٹک میں طالبات کے حجاب کرنے پر مسلمان لڑکیوں کا اسکول بند کردیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کرناٹک میں مسلمان لڑکیوں کا فاروقیہ اسکول بند کردیا گیا۔ اسکول کو حجاب پرپابندی کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر بند کیا گیا۔
مقامی حکام نے مسلمانوں کے خلاف روایتی ہندوانتہاپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ کی اسکول کھولنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک طالبات حجاب کے بغیر نہیں آئیں گی اسکول نہیں کھولا جائے گا۔
Authorities in BJP-ruled Karnataka have shut down Farooqia Girls High School, denying 450 Muslim girls their right to complete their grade 8 to 10 education. pic.twitter.com/5L6C0Thvns
— CJ Werleman (@cjwerleman) July 6, 2022
فاروقیہ اسکول میں آٹھویں سے دسویں جماعت تک کی ساڑھے چار سومسلمان طالبات زیرتعلیم ہیں۔ طالبات نے بند اسکول کے سامنے احتجاج کیا اوربھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی جانب سے لگایا گیا نعرہ ’بیٹٰی پڑھاؤ، بیٹی بچاؤ‘ لگاتے ہوئے اسکول کھولنے کا مطالبہ کیا۔
کچھ طالبات پورے تعلیمی سال کی محنت ضائع ہونے پرجذبات قابومیں نہ رکھ سکیں اورروپڑیں۔



