امریکی فوجیوں کے موبائل کے استعمال سے ایران کو معلومات ملنے کا انکشاف

مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کے اعلیٰ کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ فوجیوں کی جانب سے موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے سے ایران کو امریکی اڈوں پر حملوں کے نتائج کا تقریباً فوری اندازہ لگانے میں مدد مل رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے 28 جولائی کو فوجیوں کے نام لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ ایران صحافیوں کی رپورٹس اور امریکی فوجیوں کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اپنے حملوں کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایڈمرل بریڈ کوپر نے فوجیوں پر زور دیا کہ وہ آپریشنل سیکیورٹی کے اصولوں پر مزید سختی سے عمل کریں، تاہم خط میں کسی مخصوص اقدام کا ذکر نہیں کیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اردن میں تعینات بعض امریکی فوجیوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ آئندہ چند روز میں ان کے موبائل فون تحویل میں لیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایک اور ذریعے کے مطابق پورے خطے میں بھی اس اقدام پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز نے کہا ہے کہ یہ پیغام فوجیوں کو آپریشنل سیکیورٹی کی اہمیت یاد دلانے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس ماہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک امریکی فوجی نے ایران کے حملے کے دوران اردن کے موفق السلطي ایئر بیس پر بنکر کی جانب جاتے ہوئے ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔
ایڈمرل کوپر کے مطابق یہ ویڈیو میٹا اسمارٹ گلاسز سے بنائی گئی تھی اور اس سے ایران کو فوجیوں کی پوزیشن اور ردعمل سے متعلق معلومات مل سکتی ہیں۔
ایڈمرل کوپر نے کہا کہ اگر ایسی معلومات عام نہ ہوں تو ایران کے لیے یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ اس کے حملے ہدف پر لگے یا نہیں، لیکن عوامی طور پر دستیاب تصاویر، ویڈیوز اور رپورٹس ایران کو بغیر کسی قیمت کے جنگی نقصان کا جائزہ (Battle Damage Assessment) فراہم کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے ایران کے ساتھ جاری تنازع میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی محکمۂ دفاع سیکیورٹی خدشات کے باعث حملوں اور فوجی نقصانات کی تفصیلات محدود رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔



