انٹر نیشنل

روسی صدر کا یوکرین بھیجے گئے امریکی ہتھیاروں کی تباہی پر طنز

یوکرین کو نئے ہتھیار بھیجنے کے امریکی فیصلے کے ردعمل میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس موجودہ صورت حال سے سہولت کے ساتھ نمٹ رہا ہے اور وہ واشنگٹن کی طرف سے فراہم کیے گئے درجنوں ہتھیاروں کو پہلے ہی تباہ کر چکا ہے۔

صدر پیوٹن نے اپنے بیان میں کہا کہ ماسکو یوکرین میں جاری جنگ اپنے مقاصد پورے ہونے تک ختم نہیں کرے گا۔

روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پیوٹن نے یہ ریمارکس قومی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہے۔

ہفتے کے روز روسی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ روسی فوج نے بحیرہ اسود پر اوڈیسا کی بندرگاہ کے قریب ہتھیاروں اور گولہ بارود سے لدے یوکرین کے فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کو مار گرایا ہے۔

وزارت دفاع نے مزید کہا کہ روسی میزائلوں نے یوکرین کے سومی علاقے میں ایک توپ خانے کے تربیتی مرکز کو بھی نشانہ بنایا جہاں غیر ملکی تربیت کار کام کر رہے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اوڈیسیا میں نشانہ بننے والی عمارت میں غیرملکی اجرتی فوجی کام کر رہے تھے۔

وائٹ ہاؤس نے گذشتہ منگل کو کہا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ اب بھی یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم بھیجنے پر غور کر رہی ہے، لیکن وہ ان کا استعمال روسی حدود میں حملوں کے لیے نہیں کرنا چاہتے۔

یوکرین کے حکام اتحادیوں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے نظام دینے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ کیف ایسے میزائل سسٹم کا خواہاں ہے جو ایک ہی وقت میں سیکڑوں میل دور کئی میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہو مگر امریکا سمیت کوئی ملک ابھی تک یوکرین کو اس طرح کا اسلحہ دینے کے لیے تیارنہیں۔

روس نے یوکرین کو جدید میزائل سسٹم اور گولہ بارود فراہم کرنے کے امریکی فیصلے کو انتہائی منفی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے براہ راست تصادم کے خطرات بڑھ جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button