انٹر نیشنل

روسی فوج کے ہاتھوں بوچا میں قتل عام کی سیٹلائٹ تصاویر منظر عام پر

روس کی فورسز کے قبضے کے دوران یوکرین کے قصبے بوچا میں قتل عام کی سیٹلائٹ تصاویر منظر عام پر آگئی ہیں۔

روزنامہ نیو یارک ٹائمز کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق میکسار ٹیکنالوجیز نے بوچا کی تصاویر انہیں فراہم کی تھیں۔ 4 اپریل کو شائع ہونے والی ان تصاویر کا نیویارک ٹائمز کی جانب سے جائزہ بھی لیاگیا۔ اخبار نے ان تصاویر کا ایک ویڈیو سے موازنہ کیا، جس میں وہی منظر نظر آتا ہے اور ان مقامات کی نشاندہی ہوتی ہے جہاں یہ لاشیں پڑی ہیں۔ اس تجزیے سے سیٹلائٹ تصاویر کی درستگی کی تصدیق ہوتی ہے۔

سیٹلائٹ کی مدد سے چند ہفتے قبل یوکرین کے قصبے بوچا کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑکوں پر شہریوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ یہ بات ایک نجی امریکی کمپنی نے بتائی ہے، جس سے حکومت روس کے یہ دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں کہ یہ ہلاکتیں یوکرین کی افواج کے ہاتھوں ہوئی ہیں یا پھر کسی مصنوعی طریقے سے اس منظر کو پیش کیا گیا ہے۔

میکسار ٹیکنالوجیز نے 18، 19 اور 31 مارچ کو بوچا کی یہ تصاویر رائٹرز کو فراہم کی تھیں۔ کم از کم چار تصاویر میں قصبے کی سڑکوں میں سے ایک، یبونسکا اسٹریٹ پر لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ اس شہر پر تقریباً 30 مارچ تک روسی فوج کا قبضہ تھا۔ قبل ازیں تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام لگایا تھا کہ لاشوں کا منظر گھڑی ہوئی داستان ہے اور ایسی تصاویر کی مدد سے مغربی ملکوں نے سوشل میڈیا پر یوکرین کے بارے حقائق کا ایک مصنوعی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button