انٹر نیشنل

بیروزگار شخص تین روز تک بیوی کی لاش کے ساتھ رہنے پر مجبور

یہ کہانی 56 سالہ مائیکل ونٹر اور اس کی 56 سالہ اہلیہ انجیلا ونٹر کی ہے جو اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

رپورٹ کے مطابق مائیکل اور انجیلا دونوں کورونا وائرس کی وجہ سے بے روزگار ہونے کے بعد اپارٹمنٹ کا کرایہ ادا نہ کر پانے پر بے گھر بھی ہو گئے اور جنگل میں ایک خیمہ لگا کر رہنے لگے تھے۔

چند ہفتے بعد انجیلا اس خیمے کی زندگی سے تنگ آگئیں اور ایک روز مائیکل کے ساتھ اس کی اسی بات پر لڑائی ہونے پر وہ خیمہ چھوڑ کر چلی گئی۔

مائیکل اس امید پر خیمے میں ہی رہا کہ انجیلا واپس آ جائے گی مگر کئی دن گزر گئے مگر وہ نہ آئی۔

اب مائیکل کو فکر لاحق ہوئی اور اس نے انجیلا کی تلاش شروع کر دی اور بالآخر اسے اپنی بیوی کی لاش مل گئی۔

انجیلا کی لاش خیمے سے کچھ فاصلے پر ایک چلڈرنز پارک کے قریب پڑی مائیکل کو ملی تھی جسے وہ اٹھا کر خیمے میں لے آیا اورتین دن تک لاش کے ساتھ ہی رہتا رہا۔

مائیکل کا کہنا ہے کہ بیوی کی لاش ملنے پر وہ اس قدر دل گرفتہ ہوا کہ اس نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔

ساؤتھ سٹافرڈشر پولیس نے خیمے سے لاش ملنے پر ابتدائی طور پر مائیکل کو قتل کے شبے میں گرفتار کیا مگر بعد ازاں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے پرجب موت کی اصل وجہ معلوم ہوئی تو مائیکل کو رہا کر دیا گیا۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خاتون کی موت پیراسیٹامول اور ایٹولین گولیاں ایک ساتھ کھانے سے ہوئی تھی۔ یہ گولیاں ایک ساتھ کھانے سے معدے میں زہر پیدا ہوتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے اور انجیلا کے کیس میں ایسا ہی ہوا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button