ایران میں ایک بار پھر مظاہرے پھوٹ پڑے

حکومت مخالف احتجاج کے خلاف پھانسیوں پر ایران میں ایک بار پھر مظاہرے پھوٹ پڑے۔
پیر اور منگل کی رات کو مغربی شہر کرج شہر میں ہزاروں مظاہرین نے جیل کے باہر جمع ہوکر شدید احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اطلاعات تھیں کہ حکومت گزشتہ رات مزید دو نوجوانوں محمد قبادلو اور محمد بروغنی کو پھانسی دینے کی تیاری کررہی ہے۔
مظاہرین میں جیلوں میں قید افراد کے اہل خانہ بھی شامل تھے جن کا مطالبہ تھا کہ گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ایران میں اب تک 17 افراد کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔ کرج میں نومبر میں پیرا ملٹری اہلکاروں کو قتل کرنے پر 2 شہریوں محمد مہدی کریمی اور سید محمد حسینی کو گزشتہ ہفتے کو پھانسی دی گئی تھی جبکہ محسن شکاری اور مجید رضا کو دسمبر میں سزائے موت دی گئی تھی۔
مظاہرین کو سزائے موت دینے کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی جا رہی ہے جبکہ مغربی ممالک نے ایران پر مزید پابندیاں بھی عائد کرنے کا کہا ہے۔
گزشتہ روز برطانیہ، فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک میں ایرانی ناظم الامور کو طلب کرکے ایران میں مظاہرین کے خلاف نئی سزائے موت کے خلاف احتجاج کیا۔



