ایران میں پرتشدد احتجاج، ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی کا گھر نذرآتش

تہران: ایران میں حکومت کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران مشتعل افراد نے سابق ایرانی رہبر اعلیٰ اور انقلاب کے بانی روح اللہ خمینی کے پرانے گھر کو نذر آتش کردیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پولیس حراست میں مھسا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں مظاہروں کی لہر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ حکومت کے خلاف احتجاج تیسرے مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔ اسی سلسلے میں جمعرات کے روز مشتعل افراد نے خمین شہر میں واقع انقلابِ ایران کے بانی اور سابق رہبر اعلیٰ روح اللہ خمینی کی پرانی رہائش گاہ جسے اب میوزیم میں تبدیل کیا جا چکا ہے، کو آگ لگادی۔
BREAKING:
Protesters have burned down the house in which Ruhollah Khomeini, the founder of Iran’s Islamic Islamist regime, was born in.
The house, in the city of Khomein, has been a museum for the past 30 years.
The protests are increasing in strength. pic.twitter.com/EIezQ3LQYS
— Visegrád 24 (@visegrad24) November 18, 2022
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خمینی کی پرانی رہائش گاہ کو نذر آتش کرتے وقت مظاہرین حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کررہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے حکومت اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے لگاتے رہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق جمعرات کے روز ایران کے کم از کم 23 مختلف شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کے 5 ارکان ہلاک ہوئے۔
واضح رہے کہ رواں برس ستمبر میں 22 سالہ مھسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد سے ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ اس دوران پرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 250 سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہونے والے تصادم میں کئی اہل کار بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔



