اقتداد کی میوزیکل چیئر

تحریر :فریدہ جبیں
جیسے حالات ویسی باتیں یعنی کے “جتنے منہ اتنی باتیں” کے مصداق ہمارے ملک و قوم کے حلات چل رہے ہیں۔ جوڑ توڑ ،ملاقات و سیاسی میل جول اور نئی وزارتوں کے حلف لینے کے سلسلے جاری ہیں ، کہیں سیاسی اتحاد کی کوششیں تو کہیں روٹھنا منانا جاری ہے ۔
ماضی کے بہت سے حقائق سچ ثابت ہوئےاور بہت سے ندامت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ جیسا کہ بھٹو،ضیاء الحق اوربے نظیر کی اموات پر حا صل کیا ہوا ؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اسی طرح ایم کیوایم ایک بہترین جماعت کے طور پرابھری اعلیٰ تعلیم یا فتہ افرادکے ساتھ سیاست اور عوامی خدمت تو کی گئی مگر بد قسمتی سے اندرونی خانہ جنگی کا شکار ہوکر رہ گئی ۔
ہر جماعت کاٹ چھاٹ کا شکار رہی کسی میں بھی استحکام نظر نہیں آتا۔کیا ایسا کچھ تحریک انصاف کے ساتھ ہوگا یا وہ استحکام کے ساتھ آگے چلے گی۔ یہ تو عمران خان کی مقبولیت واضع طور پر بیان کررہی ہے ۔
عمر ان خان اگرچہ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی کامزہ چکھ چکے ہیں۔اور اس سے لطف اندوز ہونے کے بعد اسے کھو بھی دیا ہے ۔اب ان کے پاس تمام تر تجربات موجود ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی کپتانی صلاحتوں کا لوہا کیسے منواتے ہیں۔
اس حوالے سے معروف کرکٹر شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ کیا عمران خان ایسی ٹیم رکھتے ہیں تو انہیں بیک اپ دے اور آگے بڑھنے میں معاون ومددگار ثابت ہو ؟
آئندہ آنے والے انتخابات میں یہ ثابت ہوگا کہ نیا پاکستان کا خواب شر مندائے تعبیر کیسے ہوتا ہے ؟کون کرتا ہے؟اور اہم ترین کب ہؤ گا ؟ اہم سوال یہ ہیں۔۔
نئی سوچ ،نئےجذبے،ارادے اور یقین محکم اگر حقائق پر مبنی ہوں اور اسکا سانچا حقیقی بنیادوں پر ہو۔تو اس کا بروئے کارلانا ،اور عملی جامہ پہنانا آسان اور کارگر ہوگا۔ بشرطیکہ نیت،ارادے سچے اور مسمم ہوں اور دل و دماغ یکجا و یکسو ہو کر کام کریں ۔
بقول شاعر
یہ مٹی ذرخیز ہے ساقی۔۔۔۔۔
اس حوالے سے چیف جسٹس نے کہا کہ کے ترقی کے لئے ملک کو مستکم حکومت کی ضرورت ہے۔ 1970 سے ملک میں اقتدار کی میو زیکل چیئر چل رہی ہے
کسی کو بھی غلط کام سے فائدہ اٹھانے نہیں دے سکتے ۔



