بلاگ

زبیدہ مصطفیٰ – پاکستان کی پہلی خاتون جرنلسٹ کا جرأت مندانہ سفر

زبیدہ مصطفیٰ – پاکستان کی پہلی خاتون جرنلسٹ کا جرأت مندانہ سفر

تحریر: شفق سحر

پاکستان میں میڈیا کے بیشتر شعبے طویل عرصے تک مردوں کے تسلط میں رہے۔ ایسے میں زوبیدہ مصطفیٰ ایک نمایاں اور جرات مند استثنا کے طور پر ابھریں۔ جب انہوں نے 1970 کی دہائی میں پاکستان کے معتبر انگریزی روزنامہ ڈان میں شمولیت اختیار کی، تو وہ نہ صرف پہلی خاتون تھیں جنہوں نے ادارتی ٹیم میں مکمل وقتی کردار ادا کیا، بلکہ انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ خواتین خبر نہیں صرف دیتیں، بلکہ خبر کا رخ بھی طے کر سکتی ہیں۔

اگرچہ ان کا نام سوشل میڈیا پر شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے، مگر ان کا اثر آج ہر اس نیوز روم میں محسوس کیا جا سکتا ہے جہاں خواتین کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ زوبیدہ مصطفیٰ نے صرف تاریخ رقم نہیں کی، بلکہ دوسروں کے لیے دروازے کھولے۔

زوبیدہ مصطفیٰ نے اس وقت صحافت کا راستہ اپنایا جب یہ میدان خواتین کے لیے ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کا ڈان جیسے مؤقر ادارے میں بطور مکمل وقتی ادارتی رکن شامل ہونا ایک غیر معمولی قدم تھا—نہ صرف ان کے لیے بلکہ پاکستان کے میڈیا کے لیے بھی۔

انہوں نے روایتی خواتین کے صفحات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ تعلیم، صحت، خواتین کے حقوق اور ملکی سیاست جیسے اہم اور سنجیدہ موضوعات پر بھی بے باک انداز میں قلم اٹھایا۔ ان کی تحریر دلیل سے بھرپور اور مقصد سے جڑی ہوتی تھی۔

زوبیدہ مصطفیٰ کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ضمیر اور صحافتی اصولوں سے وابستگی تھی۔ ان کے لیے صحافت محض خبریں دینا نہیں بلکہ سچ کو تلاش کرنا، سماج کی خدمت کرنا اور خاموش آوازوں کو بلند کرنا تھا۔

انہوں نے جن موضوعات پر مسلسل کام کیا، ان میں شامل ہیں:

  • بچیوں کی تعلیم
  • لسانی پالیسی اور مادری زبان کا حق
  • سماجی انصاف
  • کمزور اور محروم طبقات کے مسائل

ان کا اندازِ تحریر متوازن، باوقار اور معلوماتی ہوتا تھا—سنسنی خیزی سے پاک، لیکن اثر انگیز۔

جس وقت پاکستان میں صحافت میں خواتین کے لیے کوئی نمایاں کردار ماڈل کے طور پر موجود نہیں تھا، زوبیدہ مصطفیٰ خود ایک مثال بن گئیں۔ انہوں نے نوجوان صحافیوں کی تربیت کی، صنفی امتیاز کے خلاف آواز اٹھائی، اور خواتین کی صحافت میں شمولیت کو محض ایک خواب سے حقیقت میں بدلا۔

آج جب ہم خواتین کو جنگی میدانوں سے رپورٹنگ کرتے، نیوز رومز کی قیادت کرتے اور اپنی میڈیا پلیٹ فارمز چلاتے دیکھتے ہیں—تو یہ سب زوبیدہ مصطفیٰ کی جدوجہد کا ہی تسلسل ہے۔

سال 2012 میں، زوبیدہ مصطفیٰ کو یونیسکو کا گویلمو کانو ورلڈ پریس فریڈم پرائز دیا گیا۔ وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی بنیں۔ یہ ایوارڈ ان کی صحافت سے وابستگی، غیر متزلزل دیانتداری اور جمہوری اقدار کے تحفظ کی علامت تھا۔

اس اعزاز نے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ عظمت کو سراہا بلکہ ان کی اخلاقی بصیرت کو بھی عالمی سطح پر تسلیم کیا—اس وقت میں جب صحافت مسلسل سیاسی اور مالی دباؤ کا شکار ہے۔

اگرچہ زوبیدہ مصطفیٰ اب ڈان سے ریٹائر ہو چکی ہیں، ان کی وراثت آج بھی مختلف شکلوں میں زندہ ہے:

  • زوبیدہ مصطفیٰ ایوارڈ، جو خواتین صحافیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے دیا جاتا ہے
  • وہ درجنوں نوجوان خواتین جنہیں انہوں نے متاثر اور تربیت دی
  • ان کی وہ تحریریں جو آج بھی تعلیم، جمہوریت اور صحافتی اخلاقیات پر مباحثے کی بنیاد بنتی ہیں

انہوں نے نہ تو کوئی شور مچایا، نہ کوئی نعرہ بلند کیا—لیکن ان کی خاموش، مستقل اور بے خوف صحافت نے پاکستانی میڈیا کی سمت ہمیشہ کے لیے بدل دی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button