زہن و مذہب اور خیروشر

تحریر : فریدہ جبیں
اللہ رب العالمین نےانسان کو بہت محبت سے تخلیق کیا اور اسکی نوک پلک سنوارے۔اسے جنت جیسی اعلیٰ جگہ پررہائش دی۔جہاں وہ بہترین نعمتوں سے لطف اندوز ہوتارہے۔
خیر و شر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انسان کے ساتھ ابلیس جیسی مخلوق بھی تخلیق کی تاکہ انسان اپنے مقصدِ حیات کو جان سکے۔۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو
ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرّو بیاں ۔
انسان کو جتنی نعمتوں سے نوازا گیا وہ بیش بہا تھیں ۔لیکن انسان سے اگر کوئی ایک شے کو کم کر دیا جائے یا اسے اس سے روک دیا جائے تو وہ اسکے لئے آزمائش بن جاتی ہے۔اور اس کا ذہن اُس طرف لگ جاتا ہے بالکل اسی طرح جب کوئی انسان اپنیwill power/قوت ارادی کے ساتھ اس پرپورا اترتا تو اسے بہت سے مزید انعام و اکرام میسر آتے ہیں۔اور رب العالمین کا خاص مکرب بندہ بن جاتاہے۔
آزمائش میں نا کامی اسے بہت سے حیران کن نتائج و امتحانات کا شکار کر دیا کرتی ہے ، وہ اصل مقام و منزل سے بہک جاتا ہےاور بعض اوقات مقصد حیات کو گنوا دیتا ہے۔
دل ودماغ بہت الگ طریقے سے کام کر تے ہیں۔یہ انسان کو مخمسے کی حالت میں بھی لے جاتا ہے۔انسان سمجھ نہیں پاتا کہ اسے کرنا کیا ہے۔جبکہ منزل واضع ہوتی ہے۔
دینِ فطرت اسلام نے مسلمانوں کو ایسےبہت سے حقائق و دلائل دیے جنہیں وہ جان کر اورسمجھ کر عمل پیرا ہوتا ہے تو کامیابی قدم چومتی ہے معیارات کی کسوٹی اسے منزل مقصود تک لے جاتی ہے۔دل و دماغ کا یکسو ہونا اور مل کر ایک دھارے پر کام کرنا اسے اطمناینِ قلب وذہن عطا کرتی اور روح کی تسکین کا باعث بنتی ہیں۔
جب بھی کوئی شے بہت اعلی پیمانے پر تیار کی جاتی ہے تو اسکاکتا بچہ بھی دیا جاتا ہے جو اسے اس شے کی کارکردگی اور مختلف زاویوں پر پرکھنے اور استعمال کرنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ انسان کا mannualقران ہے جو اس سے رہنمائی حاصل کرتا ہے وہی کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے ۔



