دلچسپ و عجیب

تنخواہ کو پورے مہینے چلانے کے کچھ اہم طریقے

تنخواہ ملتے ہی آنے والے خیالات تنخواہ کو جیب میں ڈالنے والا شخص کا مکان اگر کرائے کا ہو تو سب سے پہلے کرایہ کے پیسے نکال کر الگ کر لیتا ہے اس کے بعد دوسرا نمبر بل وغیرہ کا آتا ہے جن میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ ان کی ادائیگی کے بعد اگلا نمبر بچوں کی اسکول کی فیس کا ہوتا ہے کیوں کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سرکاری اسکول میں بچوں کو پڑھانا ان کے مستقبل کو برباد کرنے کے برابر ہے اس وجہ سے پرائیویٹ اسکول میں پڑھانا بھی ایک مجبوری ٹہرا- ان تمام خرچوں کی ادائیگی کے بعد باری گھر کی دال روٹی کی آتی ہے اور جیب میں بچے ہوئے پیسے کسی عیاشی کی اجازت دینے کو تو تیار نہیں ہوتے ہیں- اس لیے بچے کچے پیسوں سے بس دال روٹی کا ہی انتطام ہو سکتا ہے اور اس طرح مہینے بھر کی مشقت کی تنخواہ صرف دو دنوں میں غائب ہو جاتی ہے اور پورا مہینہ گزارنا ایک عذاب ہو جاتا ہے۔

چلیں اب ہم آپ کو تنخواہ میں برکت کے کچھ طریقے بتاتے ہیں جن کو صرف آپ ہی نے نہیں بلکہ گھر والوں نے بھی اپنانا ہے اس کے بعد آپ خود تنخواہ میں ہونے والی برکت کو دیکھ کر حیران رہ جائيے گا-

1: اللہ کی راہ میں خرچ کریں تنخواہ ملنے کے بعد سب سے پہلے اس میں سے اپنی طاقت کے مطابق ایک حصہ الگ کر لیں جو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور کسی حقدار کو دیں اس حوالے سے سورہ بقرہ کی آیت 261 کا ترجمہ کچھ اس طرح سے ہے ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں) اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے (اس سے بھی) اضافہ فرما دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے‘‘ یعنی اس سے ثابت ہوا کہ جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے گا اس کا بے حساب اجر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملے گا تو جتنا دیں گے اتنا بڑھے گا کیوں کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اس کے لیۓ کچھ بھی ناممکن نہیں ہے

– 2: سارے پیسے اکاونٹ سے نہ نکالیں اکثر افراد تنخواہ کے آتے ہی سارے پیسے اکاؤنٹ سے یہ سوچ کر نکال لیتے ہیں کہ خرچ تو ہونے ہیں تو کون روز روز لمبی لائن میں لگے ۔ مگر یہ ان کی بھول ہوتی ہے۔ جیب میں پڑا پیسہ خرچ ہونے کے راستے مانگتا ہے اور ایسی جگہوں پر خرچ ہو جاتا ہے جن کی ضرورت بھی نہیں ہوتی ہے- اس وجہ سے پیسے جیب کے بجائے بنک میں رکھیں اور ضرورت کے وقت ہی نکال کر استعمال کریں۔ بنک کی یا اے ٹی ایم کی لائن میں کھڑے ہونے کا ڈر درحقیقت آپ کے پیسے کو بچانے کا ایک اہم طریقہ ہے-

3: ایسی جگہیں تلاش کریں جہاں سامان سستا ملتا ہے عام طور پر آج کل کے زمانے میں بڑی سپر مارکیٹ سے شاپنگ کرنا ایک ہی چھت تلے سب میسر ہونے کے سبب آسان سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بڑی مارکیٹ والے بہت ہوشیاری کے ساتھ چینی، آئل اور آٹا تو مارکیٹ سے سستا دے دیتے ہیں مگر اس کی کثر دوسری اشیا میں نکال دیتے ہیں- اس کے علاوہ ایک بھری دکان گاہک کی جیب کو خالی کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے اس وجہ سے وہاں جاکر انسان بہت ساری غیر ضروری اشیا بھی خرید لیتا ہے- اس وجہ سے خریداری کے لیے ہول سیل مارکیٹ کا رخ کریں۔ سبزی کے لیے سبزی منڈی جب کہ دیگر سودہ سلف کے لیے ہول سیل دکانیں بہترین حل ہیں اسی طرح گوشت وغیرہ کی بھی ایسی مارکیٹ موجود ہیں جہاں پر ہول سیل میں اچھے ریٹ پر گوشت اور چکن مل سکتا ہے۔ اس سے ایک جانب تو خواری تھوڑی زيادہ ہوگی مگر بچت بھی کافی ہوگی

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button