جب اچانک جنات سے سامنا ہوجائے تو کیا کرنا چاہئے؟

قرآن و حدیث میں شر پسند شیطانی مخلوق سے پناہ کے لئے بے شمار ہدایات موجود ہیں ۔ایسے مسلمانوں کو جنہیں یہ شکایت ہو اور جو سمجھتے ہوں کہ اچانک جنات کا ان سے سامنا ہوگیا ہے تو انہیں گھبرانے کی بجائے آیت الکرسی کا یہ عمل کرنا چاہئے ۔اس عمل سے پہلے لازم ہے کہ اس کو آیت الکرسی مکمل یاد ہو۔جنات کے خطرہ کے پیش نظر آیت الکرسی کوا سطرح پڑھنا چاہئے کہ جب ولا یودہ حفظھما تک پہنچیں تو اسکو لگاتار ستر بار پڑھ لیں ،اس موقع پر اگر لاکھوں جنات بھی آپ پر حملہ آور ہوں گے تو اللہ کے حکم سے وہ بھاگ جائیں گے ۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق مسجد حرام کے شمال میں تین ہزار میٹر کے فاصلے پر جہاں آج ‘مسجد الجن موجود ہےجنات کی ایک جماعت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ آپ سے قران پاک سُنا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سوالوں کے جواب دیے۔مستند تاریخی مصادر اور کتب سِیَر سے معلوم ہوتا ہےکہ ایک بار آپ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود کو ہمراہ لیے رات کے وقت اس جگہ پہنچے۔ آپ نے عبداللہ بن مسعود کو ایک خاص مقام سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا تاکہ کہیں جنات انہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔ پھر آپ کی ملاقات جنات کے ایک گروپ سے ہوئی، جنہوں اسلام قبول کیا اور آپ سے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔
قرآن پاک کی سورہ الجن وہیں اور اسی واقعے کے تناظر میں نازل ہوئی۔بعد ازاں اسی مناسبت سے وہاں ایک وسیع وعریض مسجد تعمیر کی گئی،جسے ‘مسجد الجن کا نام دیا گیا۔مرور زمانہ کے ساتھ مسجد کی تعمیر و مرمت کے دورن اس کے ڈیزائن بدلتے رہے ہیں مگر اس کے قیام کا واقعہ آج تک مسلمانوں کے دلوں میں تازہ ہے۔ الحرمین الشریفین کی زیارت کا شرف حاصل کرنے والے ‘مسجد الجن کی زیارت بھی کرتے ہیں۔ ماہ صیام میں یہاں افطار کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے جہاں دنیا بھر سے آئے زائرین اور معتمرین عقیدت واحترام کے ساتھ اس مسجد میں حاضر ہوتے، عبادت کرتے اور افطار میں شرکت کرتے ہیں۔



