امریکہ میں موجود ایسی بلڈنگ جہاں امریکی صدر کو بھی داخلے کی اجازت نہیں


امریکی ریاست کینٹکی میں ایک ایسا قلعہ موجود ہے جہاں امریکی صدر تک کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ قلعہ ہے امریکہ کا سرکاری سونا محفوظ رکھنے والا “فورٹ ناکس”، جس کی تعمیر سنہ 1937 میں کی گئی تھی۔
اس کی تعمیر پر اس وقت پانچ لاکھ 60 ہزار ڈالر کے اخراجات آئے جو موجودہ دور کے 10 ملین ڈالر بنتے ہیں۔
اس کی تعمیر میں بیالیس سو مربع گز کنکریٹ کا استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس میں 16 ہزار کیوبک فٹ گرینائٹ، ساڑھے سات سو ٹن سٹیل اور چھ سو ستر ٹن سٹرکچرل سٹیل استعمال ہوا۔
اس عمارت کی چھت بم پروف ہے اور اس کی مرکزی تجوری کا دروازہ 21 انچ موٹا ہے جس کا وزن 22 ہزار کلو سے بھی زیادہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نہ تو اس کو توڑا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس میں نقب لگائی جاسکتی ہے۔
فورٹ ناکس میں کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں ہے ، چاہے وہ پھر امریکہ کا صدر ہی کیوں نہ ہو۔
تاریخ میں صرف ایک امریکی صدر ایسے ہیں جو فورٹ ناکس میں گئے اور وہ تھے فرینکلن ڈی روز ویلٹ، انہیں فورٹ ناکس کی سیکیورٹی کے حوالے سے تحفظات تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران سنہ 1943 میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر دشمن نے حملہ کردیا تو فورٹ ناکس تباہ ہوجائے گا، جس کے بعد انہیں یہاں کا دورہ کرایا گیا اور انتظامیہ نے ان کے تحفظات دور کیے۔

کوئی بھی شخص یہ نہیں جانتا کہ فورٹ ناکس میں کتنا سونا رکھا گیا ہے، کہا جاتا ہے کہ اس میں 147 اعشاریہ تین ملین اونس سونا موجود ہے، موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے اس سونے کی کل قیمت 190 ارب ڈالر بنتی ہے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ امریکہ کے سونے کے آدھے ذخائر یہاں رکھے گئے ہیں، یہاں یہ بھی واضح رہے کہ امریکہ کے پاس دنیا میں سونے کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے جس کا وزن آٹھ ہزار ایک سو تینتیس ٹن بنتا ہے۔
امریکہ کے بعد سب سے زیادہ سونا رکھنے والا ملک جرمنی ہے جس کے پاس امریکہ کے مقابلے میں تقریباً پانچ ہزار ٹن کم سونا ہے۔
سازشی نظریات پھیلانے والے سمجھتے ہیں کہ فورٹ ناکس میں سونا ہے ہی نہیں بلکہ یہ صرف ایک دھوکہ ہے، امریکی حکومت اپنے سونے کے تمام ذخائر پہلے ہی فروخت کرچکی ہے۔



