ہوائی جہاز میں کھانے کا ذائقہ بدلا ہوا کیوں محسوس ہوتا ہے؟ پائلٹ کا حیران کن انکشاف


اگر آپ نے کبھی فضائی سفر کیا ہو تو جانتے ہوں گے کہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر کھانے کا ذائقہ مختلف محسوس ہوتا ہے۔
لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ برطانوی فضائی کمپنی ’لوگن ایئر‘ کے جیمز بشی نامی پائلٹ نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اتنی بلندی پر خشک اور سرد ہوا اور ہوا کے دباﺅ میں تبدیلی کی وجہ سے ہمارے منہ میں ذائقے کے خلیے مختلف طریقے سے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
جیمز کا کہنا تھا کہ ”ذائقے کے خلیوں کی حساسیت میں تبدیلی آنے سے مسافروں کو کھانے میں نمک اور مسالہ جات وغیرہ کم محسوس ہوتے ہیں۔ اس لیے مسافروں کے لیے جو کھانا بنایا جاتا ہے ان میں معمول کی نسبت زیادہ مسالہ جات استعمال کیے جاتے ہیں۔ “
اس سے قبل ماہرین بتا چکے ہیں کہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر پہنچ کر لوگوں کی میٹھے اور نمکین میں امتیاز کرنے کی صلاحیت 30 فیصد کم ہو جاتی ہے۔
بلندی پر جہاز کے اندر نمی میں کمی کے باعث ناک خشک ہو جاتی ہے جس سے ذائقے کی حس کمزور ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فضائی سفر کے دوران لوگوں کو کھانے کا ذائقہ مختلف لگنا شروع ہو جاتا ہے۔



