انوکھے لباس کی تیاری کیلئے چاند کو تباہ کرنے کا خوفناک منصوبہ


اہم دستاویزات سامنے آنے پر امریکی دفاعی حکام کے ایک پروگرام کی تفصیلات کا انکشاف ہوا ہے، جن کا تعلق ایڈوانسڈ ایرو اسپیس تھریٹ آئیڈینٹیفکیشن پروگرام (اے اے ٹی آئی پی) سے ہے جو اب بند کیا جاچکا ہے۔
اس پروگرام کے تحت امریکی دفاعی حکام نے ٹیکس دہندگان کے لاکھوں ڈالر عجیب و غریب تجرباتی ٹیکنالوجیز پر خرچ کیے، جیسا کہ غائب کر دینے والا لباس، کشش ثقل مخالف آلات، ٹریورسیبل ورم ہولز، اور جوہری دھماکا خیز مواد کے ذریعے چاند میں سرنگ بنانا۔
یہ خفیہ دستاویز وائس ڈاٹ کام نے شائع کیے ہیں، جن کے مطابق ان تجربات پر اے اے ٹی آئی پی کے تحت 2007 اور 2012 کے درمیان لاکھوں ڈالرز خرچ کیے گئے۔
اس تحقیق کو آگے بڑھانے کے لیے محکمہ دفاع کے حکام نے ‘ہلکے وزنی مواد’ کی تلاش کے لیے چاند پر سرنگیں بنانے کے لیے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی تجاویز تیار کی تھیں، رپورٹس میں سے ایک میں ‘منفی ماس پروپلشن’ پر بحث کی گئی تھی، جس میں چاند کی کان کنی کے چونکا دینے والے منصوبے کا خاکہ پیش کیا گیا۔
مصنفین لکھتے ہیں کہ اسٹیل سے ایک لاکھ گنا ہلکا لیکن اسٹیل جتنی طاقت والا مادہ ممکنہ طور پر چاند کے مرکز میں پایا جا سکتا ہے، اس مواد تک پہنچنے کے لیے انہوں نے چاند کی پرت کو پھاڑنے کے لیے تھرمو نیوکلیئر دھماکا خیز مواد کا استعمال کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔



