پوسٹ مارٹم کے دوران سب سے پہلے خواتین کی زبان کیوں کاٹ دی جاتی ہے؟


برطانیہ کے جیرالڈ لیڈفورڈ نامی اٹوپسی ٹیکنیشن اپنے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ پر لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے متعلق لوگوں کو معلومات دیتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ایک خاتون نے میسج کرکے جیرالڈ سے پوچھا کہ خواتین نے ناک، کان، ہونٹ اور حتیٰ کہ زبان سمیت جسم کے دیگر حصوں میں چھید کروا کے جو بالیاں اور زیورات وغیرہ پہن رکھے ہوتے ہیں، کیا پوسٹ مارٹم میں یہ اتار لیے جاتے ہیں؟
جیرالڈ نے ایک ویڈیو میں اس خاتون کے سوال کا ایسا جواب دیا ہے کہ تمام سننے والے خوفزدہ رہ گئے۔
جیرالڈ نے خاتون سے کہا کہ اگر آپ نے زبان کو چھدوا کر اس میں کوئی چیز پہن رکھی ہے تو وہ آپ کے ساتھ قبر میں نہیں جائے گی کیونکہ ہم پوسٹ مارٹم کے دوران زبان کاٹ کر نکال دیا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کان، ناک، ہونٹ اور جسم کے دیگر حصوں کو چھدوا کر جو زیورات پہنے ہوتے ہیں وہ ہم نہیں اتارتے۔
اس ویڈیو پر کمنٹس میں زبان کو کاٹ کر نکال دینے کی بات سن کر صارفین شدید خوف کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایک شخص نے تو اپنے کمنٹ میں یہ تک لکھ دیا کہ ”میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب میں کبھی مروں گا ہی نہیں۔“
ایک شخص نے اپنے کمنٹس میں پوچھا کہ ”کیا ہر کسی کی زبان نکال دی جاتی ہے؟ کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم عملے کو پابند کر سکیں کہ وہ مرنے کے بعد پوسٹ مارٹم میں ہماری زبان نہ کاٹیں؟“



