دلچسپ و عجیب

پاکستان بننے کے بعد قائداعظم کو پہلا سیلیوٹ مارنے والا سپاہی جس نے قائداعظم کو پہچانا ہی نہیں

پاکستان بننے کے بعد پہلی مرتبہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح سیلیوٹ کرنے والے فوجی جوان آج بھی زندہ ہیں۔ لیکن اب بہت زیادہ ضعیف ہو گئے ہیں اور چکوال کے علاقے کریالہ میں رہائش پذیر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب قائداعظم محمد علی جناح پہلی مرتبہ کراچی میں ملیر کینٹ آئے تو پہلا سیلیوٹ میں نے انہیں کیا۔ یہ وہ موقع تھا جب پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم نے پانچویں ہیوی اے رجمنٹ کا جائزہ لیا تو اس وقت قوم کے اس سپوت نے رائل سیلیوٹ قائد اعظم کو پیش کیا۔

اس وقت ہمارا کرنل ایک انگریز تھا جس نے مجھ سے بعد میں پوچھا کہ تم نے انہیں رائل سیلیوٹ کیوں دیا، ان کے اس سوال پر میں نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کا سربراہ ہے اور اس سے پہلے بھی میں نے وائسرائے ہند کو 2 مرتبہ یہ رائل سیلیوٹ پیش کیا ہے۔

ساتھ ہی ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب تو ملک کے حکمران کو جس طرح گارڈ آف آنر پیش کیا جاتا ہے اس طرح پہلے نہیں ہوتا تھا بلکہ پہلے تو گارڈ آف آنر میں تو 9 سپاہی، 1 حولدار اور 1 نائب صوبیدار شامل ہوتا تھا۔

اس کے علاوہ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ میں نے تو جب قائداعظم بحثیت گورنر جنرل گورنر ہاؤس سے باہر نکلے تو مجھے معلوم نہیں تھا تو میں نے گیٹ پر کھڑے سنتری سے کہا کہ جو بھی گیٹ پر آئے اسے وہیں روک لینا ، میں چیک کروں گا اور پھر گاڑی اندر جائے گی تو اس اثنا میں قائد اعظم صاحب باہر سے آ گئے۔

پھر کیا تھا اسی طرح ہوا ان کی بھی گاڑی روک لی گئی تو جب میں نے ان سے کہا کہ اپنی شناخت کروائیں تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں محمد علی جناح ہوں اس ملک کا گورنر جنرل۔

اس بات کے جواب میں، میں نے کہا کہ جناب کوئی بھی آسکتا ہے یہاں اس طرح۔ سیکیورٹی کا مسئلہ ہے اور یہ میری ڈیوٹی ہے تو انہوں نے شناخت کرا دی۔

قائداعظم میری کارکردگی سے اتنا متاثر ہوئے کہ ملٹری سیکریٹری سے کہا پتا لگاؤ یہ کس یونٹ کا نوجوان ہے اسے مبارکباد دو، آج میں ملک کی فوج سے انتہائی خوش ہوں، ہر کسی کو چیک کر کے اندر بھیج رہی ہے۔

یہ ضعیف بابا جی برٹش آرمی میں 1 جنوری سن 1941 کو بھرتی ہوئے تھے۔ انہوں نے 3 جنگیں لڑیں جس میں دوسری جنگ عظیم، 1965 کی جنگ اور پھر 70 میں ہونے والی جنگ کشمیر کے محاز پر لڑی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button