
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی جاری کردی، جس کے مطابق شرح سود 15 فیصد پر برقرار رہے گی۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ اگست میں ہونے والے اجلاس کے بعد معاشی سرگرمیوں میں سست روی آتی رہی ہے۔


مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔ جبکہ سیلاب کی وجہ سےبھی معاشی منظرنامہ تبدیل ہوا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے اثرات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔
سیلاب کے بعد مہنگائی سے نمٹنے اور شرح برقرار رکھنے کے لیے زری مؤقف مناسب ہے۔ اوردوسری جانب بینک نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ غذائی سپلائی کے مسائل کی وجہ سے مہنگائی کی شرح اور دورانیہ بلند رہ سکتا ہے۔
مرکزی بینک نے بتایا کہ طلب کم ہونے سے معاشی نمو کے امکانات کمزور ہوئے ہیں،جس کی وجہ سے مہنگائی بھی کم ہونی چاہیے۔



