انٹر نیشنلاہم خبریں

ترکیہ کے فوجی اڈے پر ڈرون حملے

عراق کی دہوک گورنری میں ترکیہ کے فوجی اڈے بامرنی پر دو بم بار ڈرون طیاروں سے حملے کی اطلاعات ہیں۔

یہ پیش رفت عراقی کردستان میں دہوک گورنری میں ایک سیاحتی مقام کو نشانہ بنانے والے حملے کے دو دن بعد سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

بدھ کے روز شمالی عراق میں ہونے والی بمباری میں بچوں سمیت نو شہری ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے تھے۔

بغداد نے اس کا الزام انقرہ پر عائد کیا تھا۔

 عراق نے بغداد میں متعین ترکیہ کے ناظم الامور کو طلب کرکے اس حملے پر احتجاج کرنے کے ساتھ ترکیہ سے عراق سے اپنی فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ عراقی حکومت نے ترکیہ سے اس حملے پر معافی مانگنے اور متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب انقرہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے PKK کے عسکریت پسندوں پر اس کی ذمہ داری عائد کی ہے۔

پی کے کے ایک ایسی تنظیم ہے جسے ترکیہ اور اس کے مغربی اتحادی “دہشت گرد” قرار دیتے ہیں۔

ترکیہ کا کہنا ہے کہ پی کے کے نامی کرد نواز گروپ 1984 سے انقرہ کے خلاف بغاوت کی کوششوں میں سرگرم ہے۔

ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اس طرح کے حملے” “دہشت گرد تنظیمیں” کرتی ہیں۔

انقرہ، جس نے 25 سال سے شمالی عراق میں فوجی اڈے قائم کیے ہیں، نے PKK کے خلاف بارہا فوجی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ عراق میں کرد عسکریت پسندوں کے مبینہ اڈے قائم ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button