امریکانےایک بارپھرپاکستان میں حکومت گرانے کے الزامات مسترد کردیئے

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ سے پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا کہ امریکا پر الزام ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت گرانے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر نیڈ پرائس نے جواب ديا کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نیڈ پرائس سے جب عمران خان کو موصول ہونے والے دھمکی آمیز مراسلے سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا قانون کی حکمرانی اور اس کے تحت برابری کے اصول کو سپورٹ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اصول صرف پاکستان نہیں دنیا کے دوسرے ممالک کے لئے بھی ہے۔ نیڈ پرائس کا یہ بھی کہنا تھا امريکا پاکستان میں کسی ایک سیاسی جماعت کو فوقیت نہیں دیتا۔
ترجمان نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ عمران حکومت گرانے کے الزامات درست نہيں۔
اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد میں 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ میں منعقد ہونے والے جلسے سے خطاب کے دوران ایک پرچہ لہرایا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک دھمکی آمیز خط ہے جو کسی ملک نے انہیں لکھا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ بیرونی ملک سے آنے والے پیسے کی مدد سے حزب اختلاف ان کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا ثبوت تحریری شکل میں دیا جانے والا خط ہے جو وہ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے عام نہیں کرسکتے۔ تاہم وہ بعد میں وہی خط سینیئر صحافیوں اور پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں کو دکھانے پر رضامند ہوگئے تھے۔



