روس یوکرین جنگ، کس ملک کے پاس کتنی فوجی طاقت ہے؟


روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب جنگ کی شکل اختیار کر گئی ہے کیونکہ روس نے حملہ کر دیا ہے اور یوکرین کے شہروں میں بم دھماکے سنائی دے رہے ہیں۔
روس یقینی طور پر دفاعی صلاحیت میں یوکرین سے بہت زیادہ طاقت ور ہے اور اس کا علم یوکرین کو بھی بخوبی ہے، لیکن اسے مغربی ممالک اور امریکہ کا تعاون بھی حاصل ہے۔
دنیا بھر میں عسکری قوت اور دفاعی ساز و سامان کے اعتبار کے ملکوں کی درجہ بندی جاری کرنے والے عالمی ادارے گلوبل فائر پاور اور آئی آئی ایس ایس ملٹری پاور کے اعداد و شمار کے مطابق روس دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے، جبکہ یوکرین کا نمبر 22 واں ہے۔
روس کے فوجیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 29 لاکھ ہے جبکہ یوکرین کے پاس 11 لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔
ان میں سے روس کے فعال فوجیوں کی تعداد 9 لاکھ جبکہ ریزرو دستوں کی تعداد 20 لاکھ ہے۔
اسی طرح یوکرین کے فعال فوجیوں کی تعداد صرف 2 لاکھ جبکہ ریروز دستوں کی تعداد 9 لاکھ ہے۔
اگر دونوں ملکوں کے پاس موجود جنگی طیاروں کا ذکر کیا جائے تو یہاں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔
روس کے پاس تقریباً 1511 جنگی طیارے موجود ہیں جبکہ یوکرین کے پاس موجود طیاروں کی تعداد محض 98 ہے۔
ہیلی کاپٹرز کے میدان میں بھی روس یوکرین سے آگے ہے۔ یوکرین کے پاس صرف 34 ہیلی کاپٹرز ہیں جبکہ روس کی عسکری قوت میں 544 ہیلی کاپٹرز موجود ہیں۔
موجودہ دور میں جنگ کے دوران ٹینکس کا کردار کسی حد تک محدود ضرور ہوا ہے تاہم ان کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔
روس اور یوکرین کے معاملے میں ٹینکس کی اہمیت زیادہ ہے کیوں کہ روس یوکرین کے علاقوں میں پیش قدمی چاہتا ہے اور پیش قدمی کا محفوظ طریقہ ٹینکس کو لے کر آگے بڑھنا ہے۔
روس کے پاس موجود ٹینکس کی تعداد 12 ہزار 240 ہے جبکہ یوکرین 2596 ٹینکس رکھتا ہے۔
روس کے پاس موجود بکتر بند گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122 ہے جبکہ یوکرین کے پاس 12 ہزار 303 بکتر بند گاڑیاں ہیں۔
روس کے پاس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی تقریباً 7571 توپیں موجود ہیں جبکہ یوکرین کے پاس اس طرح کی 2040 توپیں موجود ہیں۔
یہ بات ہم سب کے علم میں ہے کہ روس ایٹمی ملک ہے جبکہ یوکرین کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود نہیں۔ روس کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد حتمی طور پر تو نہیں بتائی جاسکتی البتہ ایک محتاط اندازے کے مطابق روس کے پاس مختلف نوعیت کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 6 ہزار سے زائد ہے جبکہ امریکا کے پاس بھی تقریباً اتنے ہی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔



