انٹر نیشنلاہم خبریں

امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، تہران میں متعدد میزائل گرنے سے دھماکے

امریکا اور اسرائیل نے اچانک ایران پر حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد تہران اور دیگر کئی مقامات دھماکوں سے گونج اٹھے، ان حملوں میں کئی شہری زخمی ہوئے ہیں] ان حملوں کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر میزائل حملہ کیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد اسرائیلی میزائل یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا پر گرے ہیں، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے۔

اسرائیل اور امریکا نے تہران، خرم آباد، قم، اصفہان، کرج اورکرمان شاہ، لورستان اور تبریز میں حملے کیے ہیں۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب 7 میزائل گرے ہیں جبکہ تہران کے مضافات اور کئی مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں، افراتفری کی صورتِ حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ سروس بند ہونے کے سبب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای تہران میں موجود نہیں ہیں، انہیں محفوظ جگہ منتقل کر دیا گیا ہے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان  کے بارے میں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران پر پیشگی حملے شروع کر دیے گئے ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع نے بھی اس حوالے سے تصدیق کی ہے۔

ایران نے قطر میں العدید ایئربیس، کویت میں السلیم ایئربیس، یو اے ای میں الدفرا ایئربیس اور بحرین میں بحری ایئربیس کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔

ایران کے سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی عوام سے دوبارہ سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کر دی اور کہا کہ احتجاج دوبارہ شروع کرنے کا وقت قریب ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکا اور اسرائیلی حملوں کے بعد سابق شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی کا بیان سامنے آیا ہے۔

رضا پہلوی کا کہنا ہے کہ ہم حتمی فتح کے بہت قریب ہیں، میں جلد از جلد آپ کے درمیان پہنچنا چاہتا ہوں تاکہ ہم مل کر ایران کو واپس لے سکیں اور اسے دوبارہ تعمیر کرسکیں۔

اسرائیل نے ایران کے خلاف آپریشن کا نام ’لائنز روئر‘ جبکہ امریکا نے حالیہ کارروائی کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا ہے۔

یہ نام وزیرِاعظم نتین یاہو نے تجویز کیا جبکہ اس سے قبل اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے ان حملوں کے لیے اندرونی طور پر ایک مختلف نام رکھا ہوا تھا۔

ادھر پینٹاگون کے مطابق ایران کے خلاف امریکی آپریشن ایپک فیوری جاری ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پینٹاگون نے ایران کے خلاف امریکی آپریشن کو آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا ہے۔

اسرائیلی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکا کے ساتھ مل کر اسرائیلی آپریشن جاری ہے، ایران پر آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنایا گیا تھا، ایران پر حملے کی تاریخ کا فیصلہ ہفتوں پہلے کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے امریکی عہدیدار کا بھی یہی مؤقف سامنے آیا ہے جس کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے، ایران پر امریکی حملے فضا اور سمندر سے جاری ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں کے بعد ایران نے فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے کچھ دیر بعد ایران نے بھی اسرائیل پر میزائل حملہ کیا ہے جس کے بعد اسرائیلی فوج کا بیان سامنے آیا ہے کہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام آپریٹ کر رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔

اسرائیلی افواج نے ایرانی حملوں کے پیشِ نظر ملک بھر میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ پناہ گاہوں کے قریب رہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے گئے ہیں، جس کے بعد شمالی اسرائیل میں سائرن بجنے شروع ہو گئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان حملوں کے بعد عراق نے فضائی حدود بند کر دی ہے جبکہ کویت نے ایران کے لیے اگلے حکم تک تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔

ایران پر حملے کے فوری بعد مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے۔

اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کرنے کے بعد اسرائیل بھر میں اسکول بند کر دیے گئے۔

اسرائیلی حکام نے اسرائیلی فضائی حدود کو بھی بند کر دیا ہے اور اسرائیلی شہریوں کو ایئر پورٹ کی جانب نہ آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

موجودہ صورتِ حال میں قطر میں امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کو شیلٹر میں جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

امریکی سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قطر میں امریکی شہری اگلے حکم تک شیلٹر میں رہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی نہ کرے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ایران کے مؤقف سے مطمئن نہیں تھے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button