انٹر نیشنلاہم خبریں

شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب میں متعدد قتل کرنے کا اعتراف کرلیا

برطانوی شاہی خاندان سے قطع تعلق کرنے والے شہزادہ ہیری کی کتاب نے مارکیٹ میں آتے ہی دھوم مچادی

طویل انتظار کے بعد بلآخر شہزادہ ہیری کی کتاب  اسپیئرگزشتہ روز باضابطہ طور پر فروخت کے لیے پیش کردی گئی۔ کتاب فروخت شروع ہونے کے ساتھ ہی ہاتھوں ہاتھ بکنے  لگی۔

دنیا کی 15 مختلف زبانوں شائع ہونے والی کتاب میں موجود افغانستان سے متعلق حصّوں پر برطانیہ کے بعض حلقے اور افغانستان کے طالبان حکام کی جانب سے بھی شدید ردّعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

گزشتہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی تشہیری مہم کے بعد بالآخر منگل کو شہزادہ ہیری کی سوانح حیات ’اسپیئر‘ان کے آبائی ملک برطانیہ میں فروخت کے لیے پہنچ گئی ہے، جس سے شاہی خاندان کو مزید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

پبلشر کے مطابق برطانیہ میں اشاعت کے پہلے ہی روز ہارڈ بک،ای بُک،آڈیو سمیت کتاب کی اب تک 4 لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکیں ہیں۔ان کی یہ کتاب برطانیہ کی سب سےتیزی سے بکنےوالی نان فکشن کتاب بن گئی ہے۔

مذکورہ کتاب میں پرنس ہیری نے اپنے بڑے بھائی شہزادہ ولیم کو ان پر جسمانی تشدد کرنے کا قصور وار ٹھہرایا اور دعویٰ کیا ہے کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کی وفات کی خبر انہوں نے بی بی سی میں پڑھی۔

انہوں نے کہا ہے کہ اپنی اہلیہ میگھن مارکل سے ملنے سے پہلے وہ متعصب تھے، کتاب کے ایک باب میں پرنس ہیری نے کہا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں 25 افراد کو قتل کیا اور انہیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔

کتاب میں شہزادہ ہیری نے لکھا کہ انہیں پیدا ہی اسلیے کیا گیا تھا کہ وہ ولی عہد بھائی شہزادہ ولیم کو ٹرانسپلانٹ یا خون یا اعضاء کی ضرورت ہو تو وہ عطیہ کریں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق بادشاہ چارلس کی رسم تاجپوشی کی تقریب میں شہزادہ ہیری کو دعوت دی جائے گی تاہم شہزادہ ہیری کے شرکت نہ کرنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button