انٹر نیشنلاہم خبریں

چینی صدر کا دورہ سعودی عرب: سرمایہ کاری کے34 معاہدوں پر دستخط

چینی صدر  شی جن پنگ اپنے  دورہ سعودی عرب کے دوران  آج ریاض میں ان کا  دوسرا روز ہے ۔   اس دوران چین اور سعودی کمپنیوں کے درمیان 34 معاہدوں پر دستخط  ہو چکے  ہیں ۔ سعودی میڈیا کے مطابق  قابل تجدید  توانائی، آئی ٹی، ٹرانسپورٹ، تعمیرات اور دیگر شعبوں میں معاہدے کیے گئے ہیں۔

سعودی میڈیا کے مطابق چین کے صدر  شی جن پنگ بدھ کو سعودی عرب کے 3 روزہ سرکاری دورے پر ریاض پہنچے تھے، انھیں اس دورے کی دعوت سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دی تھی۔ رپورٹس کے مطابق چینی صدر سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے ملاقات کریں گے اور ان کے ساتھ سعودی، چین مشترکہ سربراہ اجلاس میں بھی  شرکت کریں گے۔

کورونا وائرس کی وبا ءکے آغاز کے بعد سے شی جن پنگ کا یہ تیسرا غیر ملکی دورہ ہے۔ 2016ء کے بعد سعودی عرب کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔

ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر صدر شی جن پنگ کا استقبال ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز، وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے گورنر نے کیا۔

چینی صدر کے دورے کے دوران ’ریاض کانفرنس برائے چینی خلیجی تعاون و ترقیات‘ کا انعقاد ہو گا جس میں خلیجی ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے،  اس کانفرنس میں خلیج تعاون کونسل اور عرب ممالک کے چین کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا، توقع ہے کہ معیشت اور ترقی میں مشترکہ تعاون کی مضبوطی بات چیت کا محور ہو گی۔

صدر شی  سعودی چینی سرمایہ کاری سربراہی کانفرنس میں شریک ہونگے ،  یہ کانفرنس   نو دسمبر تک جاری رہے گی۔ شاہ سلمان کی سربراہی میں ہونے والی کانفرنس میں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان بھی شریک ہوں گے۔

صدر شی جن پنگ نے آخری بار 2016 میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جس سے ایک سال قبل شہزادہ محمد بن سلمان تخت نشین ہوئے تھے، اس دورے کے دوران وہ مصر اور ایران بھی گئے تھے۔ چین سعودی عرب کے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور سعودی تیل کی برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ خریدتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان توانائی کے علاوہ مستقبل کے ممکنہ معاہدوں پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ان منصوبوں میں مستقبل کا 500 ارب ڈالر کا میگاسٹی نیوم بھی شامل ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے  چین میں موجود ایک سعودی نوجوانوں کی طرف سے بھیجے جانے والے خط کے جواب میں  سعودی نوجوانوں کو چینی زبان سیکھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی تلقین کی ہے۔ میڈیا رپورٹ  کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ ’چینی زبان سیکھنے والے سعودی نوجوان سعودی، چینی تعلقات میں استحکام لانے کا باعث بن سکتے ہیں‘۔ چینی زبان سیکھنے والے سعودی نوجوانوں نے صدر شی جن پنگ کو خط روانہ کیا تھا  جس میں کہا گیا کہ وہ چینی زبان سیکھ کر دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید استحکام لانے کے خواہشمند ہیں‘۔ نوجوانوں نے کہا ہے کہ ’وہ چین کی تہذیب وثقافت کو قریب سے دیکھنے کے خواہشمند ہیں‘۔

چینی صدر نے نوجوانوں کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کسی بھی ملک کو زیادہ بہتر طریقے سے جاننے اور سمجھنے کا طریقہ زبان ہے‘۔

’چینی زبان سیکھ کر بلکہ اس میں مہارت حاصل کرکے آپ چین کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’سعودی عرب اور چین اس وقت اپنے عظیم خواب کی تعبیر حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں‘۔

’ایک دوسرے کی زبان سیکھنے سے نہ صرف قربت حاصل ہوگی بلکہ بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ممکن ہوسکے گی جو مستقبل کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرے گا‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ’نوجوان سعودی ، چینی تعلقات کا مستقبل ہیں اورہم ملک کر روشن مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں‘۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button