طالبان حکومت نے 9خواتین سمیت 19افراد کو کوڑوں کی سزا دیدی

طالبان حکومت میں پہلی بار عدالت کی جانب سے خواتین سمیت 19 افراد کو کوڑوں کی سزا دی گئی۔
طالبان حکومت نے افغان عدالت کے حکم پر چوری اور اخلاقی جرائم کے ارتکاب پر کوڑوں کی سزا دی۔ صوبہ لوگر میں طالبان حکومت کے وزیرِ اطلاعات و ثقافت قاضی رفیع اللہ صمیم نے عالمی خبر رساں ایجنسی کو کوڑوں کے متعلق آگاہ کیا۔
خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کا کہنا ہے کہ وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ کوڑے سرِ عام نہیں مارے گئے، کسی بھی فرد کو زیادہ سے زیادہ 39 کوڑے ہی مارے گئے۔ واضح رہے کہ طالبان حکومت نے شریعت کے مکمل نفاذ کا حکم دئیے جانے کے بعد پہلی بار یہ سزا دی ہے۔
ترجمان افغان طالبان کا کہنا ہے کہ چوروں، اغوا کاروں اور باغیوں کی فائلز کا بغور جائزہ لیے جانے کے بعد جہاں حدود و قصاص کی شرعی شرائط پوری ہوتی ہوں، ان پر عمل کرنا واجب قرار دیا گیا۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ طالبان رہبرِ اعلیٰ ہیبت اللہ اخوند زادہ نے نومبر کے دوران ہی عدالتوں کو شرعی اسلامی قوانین کے مکمل نفاذ کی ہدایت کی تھی۔



