وہ سیارہ جہاں انسان آدم خور بن جائیں گے


ماہرین نے مریخ پر جانے کے کچھ ایسے خوفناک نقصانات بتا دیئے ہیں کہ چاہ کر بھی کوئی مریخ پر نہیں جانا چاہے گا۔
ڈیلی سٹار کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ مریخ پر ممکنہ طور پر انسان بہت جلد بوڑھے ہوں گے اور اس سیارے پر جا کر انسانوں کے آدم خور بننے کا بھی امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر انسانوں کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، مریخ پر یہ چیلنجز کئی گنا سنگین نوعیت کے ہوں گے۔ ان میں خوراک کا مسئلہ سب سے بڑا ہوگا۔
ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے زمین سے اشیائے خورونوش کی فراہمی تعطل کا شکار ہوئی تو مریخ پر موجود انسانوں کے پاس ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا۔
ایڈنبرا یونیورسٹی کے ایسٹرو بائیولوجسٹ پروفیسر چارلس کوکیل کا کہنا ہے کہ ‘بہترین ٹیکنالوجی کے باوجود مریخ پر انسانی زندگی کو استحکام ملنا انتہائی مشکل ہے۔ انسانوں کو مریخ پر منتقل کرنے سے پہلے وہاں زراعت اور دیگر نظام ہائے زندگی کو مستحکم کرنا ہو گا۔ ان کے بغیر انسانوں کو وہاں منتقل کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔’
میو کلینک کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ پر لوگ زمین کی نسبت زیادہ تیزی کے ساتھ بوڑھے ہوں گے۔ سائنس دانوں نے “Cell Senescence” نامی ایک پراسیس کو اس کی وجہ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مریخ پر انسانوں میں یہ پراسیس ممکنہ طور پر تیز ہو جائے گا اور وہ جلد بوڑھے ہو جائیں گے۔
میو کلینک کے ڈاکٹر جیمز کرکلینڈ کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے آئندہ ماہ باقاعدہ تحقیق شروع کرنے جا رہے ہیں۔ جس کے نتائج میں حتمی طور پرمعلوم ہو سکے گا کہ مریخ پر لوگ زمین کی نسبت کس قدر جلد بوڑھے ہوں گے۔
واضح رہے کہ انسان کے مریخ پر بسنے کا خواب پورا ہونے کے قریب ہے اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک اعلان کر چکے ہیں کہ انہیں انسانوں کو مریخ پر منتقل کرنے میں مزید زیادہ سے زیادہ 10 سال کا عرصہ لگے گا۔



