سابق فاسٹ باؤلر کا اپنے اغوا کے حوالے سے حیران کن انکشاف


سابق آسٹریلوی باؤلر اسٹورٹ میک گل نے 15 ماہ قبل ہونے والے اپنے اغوا سے متعلق ایک چونکا دینے والی کہانی سنائی ہے۔
میک گل کو پچھلے سال ان کے سڈنی کے گھر سے مسلح افراد نے اغوا کرلیا تھا۔ حالانکہ اس کیس میں اس وقت نیا موڑ آگیا تھا جب میک گل کے اغوا میں ملوث دو بھائیوں نے گرفتاری کے بعد میک گل کے بارے میں چونکا دینے والا انکشاف کیا تھا۔
ان دونوں بھائیوں نے میک گل پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا اور یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ میک گل خود ان کے ساتھ گئے تھے اور اغوا کی بات بالکل غلط ہے۔
لیکن اب میک گل نے اس پورے واقعہ کے بعد بار بار خود کے بے قصور ہونے کا دعوی کیا ہے۔
اسٹورٹ نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی ہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے ۔ حال ہی میں انہوں نے اس پورے واقعہ سے متعلق ایک خوفناک کہانی سنائی۔
میک گل نے SEN WA Breakfast کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ “آپ اپنے دشمن کے ساتھ بھی ایسا ہوتا نہیں دیکھنا چاہیں گے۔ کافی اندھیرا ہو رہا تھا اور مجھے ایک کار کی ڈگی میں بند کردیا گیا تھا۔ میں نے شروع میں اس مزاحمت کی، لیکن ان کے پاس ہتھیار تھے، اس لیے میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ میں نہیں جانتا تھا ہم کہاں جا رہے ہیں اور مجھے کس نے پکڑا ہے؟ انہوں نے ہتھیار کے دم پر مجھے کپڑے اتارنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے بعد مجھے بری طرح مارا پیٹا گیا اور پھر پھینک دیا گیا ۔ یہ پورا واقعہ شاید تین گھنٹوں تک جاری رہا۔
اس معاملہ میں پولیس نے جن 4 افراد کو گرفتار کیا تھا، ان میں سے ایک میک گل کی پارٹنر ماریا کا بھائی ہے۔
جب اغوا کاروں نے ضمانت کی درخواست دی تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ میک گل خود منشیات کے کاروبار میں ملوث تھے۔
اپریل میں اس کیس کی سماعت کے دوران جج نے بھی کہا تھا کہ یہ واقعہ منشیات کے سودا کے غلط ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔
وہیں استغاثہ نے یہ بھی دلیل دی کہ میک گل نے خود اس گینگ کو ایک منشیات فروش سے ملوایا تھا، جس نے جعلی کرنسی کے ذریعہ بڑی مقدار میں کوکین خریدی تھی۔ اس وجہ سے گینگ نے میک گل کو پکڑا اور اس سے اپنے نقصان کی تلافی کرنے کیلئے کہا۔



