
کار ساز کمپنیوں کے پاس صارفین کے 217.6 ارب روپے ایڈوانس موجود ہونے اور جان بوجھ کر پروڈکشن کم کرکے لوگوں کو آٹھ آٹھ ماہ گاڑیاں دینے کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت منعقد اجلاس میں کمیٹی ارکان سلیم مانڈوی والا، برجیس طاہر، وجیہہ قمر، سید غلام مصطفیٰ شاہ، نثار احمد چیمہ سمیت سیکرٹری انڈسٹریز امداداللہ بوسال، چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد اور دیگرنے شرکت کی۔
چئیرمین پی اے سی نے استفسار کیا گای کہ بتایا جائے کار ساز کمپنیوں کے پاس پاکستانیوں کے کتنے پیسے واجب الادا ہیں۔


دوسری جانب بلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت سے 14 مقامی کار اسمبلرز کی من مانیوں کو روکنے اور صارفین سے ناجائز رقم وصولی کو ختم کرنے کے لیےاستعمال شدہ گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی سفارش کی ہے۔
اون منی اور تاخیر سے ڈیلیوری کی تاخیر کو ختم کرنے کے لیے پی اے سی کے چئیرمین نے وزارت صنعت اور پیداوار کو گاڑیوں کی ڈیلیوری کی مدت 60 روز سے کم کر کے 30 روز کرنے کی ہدایت بھی کر دی۔



