اسلام آباد: ریڈ زون میں الرٹ جاری

کسان اتحاد کے بینر تلے پنجاب کے 20 ہزار سے زائد کسان اپنے مطالبات کی تکمیل کے لیے دوبارہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے۔
اسلام آباد میں ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 144 نافذ تھی لیکن 21 ستمبر کے بعد سے کسان دو مرتبہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جب کہ خیبرپختونخوا کے اساتذہ بھی چار روز قبل اتوار سے دارالحکومت میں داخل اور بنی گالہ میں موجود ہیں۔
مظاہرین کے دارالحکومت کی سرحد پر پہنچنے پر ریڈ زون کے کچھ داخلی راستے کھول دیے گئے تھے، تاہم انہیں چند ہی گھنٹوں بعد بند کر دیا گیا۔ کسان اتحاد کے احتجاجی مظاہرین خیابان چوک ميں موجود ہیں۔
ترجمان پولیس کے مطابق مظاہرين کو کسی صورت ریڈ زون ميں داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ احتجاج میں شامل افراد کے پاس ڈنڈے اور دیگر ہتھیار ہو سکتے ہیں۔
ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے مظاہرين سے گزشتہ رات مذاکرات کی کوشش کی۔ کسانوں کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ مظاہرين کی قيادت نے ایف نائن میں احتجاج کی یقینی دہانی کروائی تھی۔ اب طے شدہ مقام کی بجائے ڈی چوک پیش قدمی کرنے پر بضد ہیں۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پولیس اور انتظامیہ مذاکرات کيلئے اب بھی کوشش کرے گی۔ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ آخری حل کے طور پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے اقدامات عمل میں لائيں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں ٹریفک کی روانی قدرے متاثر ہے،متبادل راستے مہیا کئے گئے ہیں۔ ریڈ زون میں داخلے کيلئے سرینا چوک اور مارگلہ روڈ کھلے ہیں۔ قیام امن کے لیے اسلام آباد پولیس سے تعاون کیجئے۔



