
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نارروال اسپورٹس سٹی کیس میں لیگی رہنما احسن اقبال کو بری کردیا۔
اسلام آبادہائی کورٹ نے نارروال اسپورٹس سٹی کیس کی درخواست بریت منظور کرلی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے احسن اقبال کے کیس کی سماعت کی تھی۔
عدالت نے نیب سے سوالات پوچھے کہ اس کیس میں کرپشن کی تھی؟ نیب سے کرپشن کے ثبوت طلب کئے گئے تاہم نیب کی جانب سے عدالت کو اپنے جواب میں مطمین نہیں کیا جاسکا۔ عدالت نے نیب پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔
عدالت نے کہا کہ احسن اقبال پر ایسے اخبار کی خبر پر کیس بنایا گیا جس کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔ اگر اس منصوبے کو روکا نہ جاتا تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی کو گرفتار کرنا تھا تو اس وقت روکتے۔
احسن اقبال کے خلاف نارروال اسپورٹس سٹی کیس کا ریفرنس ختم کردیا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد صحافیوں سے عدالت کے باہر بات کرتےہوئے احسن اقبال نے نارروال اسپورٹس سٹی کو مکمل کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ مکمل کرنے پر اضافی لاگت عمران خان اور نیب سے ریکور کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہم عدالت وہیل چئیر پر ہائے ہائے کرتے نہیں بلکہ سوٹ پہن کر سینہ تان کر آتے تھے۔
لیگی رہنما نے کہا کہ ایک شخص نے میرے خلاف اپنے حمایتیوں سے چور کے نعرے لگوائے،عمران نیازی آکر دیکھ لو کہ تمہارے جھوٹوں کی کیا حقیقت ہے اور آج یہ اس کا نتیجہ ہے کہ عمران خان ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں اور سڑکوں پر ہیں۔



