نمل یونیورسٹی میں چائے کی جگہ لسی اور ستو دستیاب

نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز اسلام آباد نے اپنے کیمپس میں چائے کی جگہ لسی اور ستو بیچنا شروع کردیا۔۔
یونیورسٹی کے محکمہ ا نتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ یونیورسٹی اراکین نے ٓآخر کار فیصلہ کیا ہے کہ یکم جولائی 2022سے چائے کی جگہ مقامی مشروبات جیسے کہ لسی اور ستو دونو ں کیفے میں دستیاب ہونگے۔
حال ہی میں ایچ ای سی نے پبلک سیکٹر یونیورسٹییوں کے وائس چانسلر کو تجویز دی تھی کہ معاشی بحران سے بچنے کے لیے لسی اور ستو جیسے مقامی مشروبات کو فروغ دیں۔ ایچ ای سی کا مزید کہنا تھا کہ یہ تجویز کمیشن کی جانب سے کیے گئے کئی اقدامات میں سے ایک حصے کے طور پر کی گئی تاکہ طلبہ اور فیکلٹی میمبرز اس مسئلہ پر تحقیق کر سکیں اور اسکا حل نکال سکیں۔
ایچ ای سی کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں معاشی صورتحال کو معمول کی طرح نہیں لینا چاہیے لہذا یونیورسٹی کے لیڈرز سے درخواست ہے کہ وہ اپنی ریسرچ کو دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ تین اہم درآمدات پر مرکوز کریں جوغیرملکی اخراجات کو کم کرسکتی ہیں۔
ایچ ای سی کا کہنا تھا کہ ہمیں مقا می آئل اورمشروبات کی تحقیق اور تجارت کاری کی ضرورت ہے، مزید کہنا تھا کہ وائس چانسلر کو ایسے مواقع تلاش کرنے کے لیے دوسرے طریقوں سے بھی سوچنے کی ترغیب دی گئی ہے جو قومی معیشیت کی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔



