
اسلام آبد: انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام، بظاہر سیاسی میدان میں قدم رکھنے اور ایک سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کی رپورٹس پر خبروں میں نظر آئے۔
تاہم ان کی جانب سے ان رپورٹس پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق صحافی سلیم صافی نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی ایک تصویر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کی جس میں انہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پرچم میں لپٹے پوڈیم پر کھڑے ہو کر ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ ہوئی نا بات۔۔۔جس ریٹائرڈ فوجی نے سیاست کرنی ہےوہ اسی طرح کھل کر سیاستدان بن جائے۔فوج کی آڑ لینےکی بجائےجنرل(ر) علی قلی خان اور جنرل(ر) امجد شعیب وغیرہ کو بھی جنرل(ر) ظہیرالاسلام کی طرح کھل کر پی ٹی آئی میں شمولیت کے ذریعے شبلی فراز اور شہباز گل کی صف میں کھڑا ہوجانا چاہئے۔ https://t.co/GIXoGUlQT5
— Saleem Safi (@SaleemKhanSafi) June 26, 2022
متعدد افراد نے سمجھا کہ سابق جنرل نے سیاست میں شمولیت اختیار کر کے پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات فواد چوہدری نے اس تاثر کو مسترد کردیا۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ جنرل (ر) ظہیر الاسلام پنجاب کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی امیدوار کی حمایت میں ایک سیاسی اجتماع میں شرکت کی تھی۔
وہ شبیر اعوان نامی پی ٹی آئی امیدوار کی حمایت کررہے ہیں جو راولپنڈی کے حلقہ پی پی-7 سے صوبائی اسمبلی کی رکنیت کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔


فواد چوہدری نے کہا کہ ان افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی، وہ صرف پی ٹی آئی امیدوار کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کررہے تھے جو ریٹائرڈ جنرل کے رشتہ دار ہیں۔
یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ جنرل (ر) ظہیر الاسلام مارچ 2012 سے نومبر 2014 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔
اس دوران یہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں کہ انہوں نے پی ٹی آئی دھرنے میں تکنیکی مدد فراہم کی اور دھرنے کے پُر امن حل کے لیے ہونے والے مذاکرات میں بھی شامل رہے۔



