

چیف آف اسٹاف ڈاکٹر شہباز گل نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چئیرمین عمران خان کے گھر سے جاسوسی کے الزام میں پکڑے جانے والے ملازم کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔
میڈیا نمائندوں کے سامنے ملزم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ یہ 23 سالہ نوجوان گزشتہ 6 سالوں سے عمران خان کے بنی گالہ گھر میں نوکری کرتا تھا، اس شخص کو 50 ہزار روپے دیئے گئےاور کہا گیا کہ ایک ڈیوائس لگانی ہے، ڈیوائس لگانے کے بعد مستقل طور پر خرچ کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر شہباز گل کے مطابق اس نے ان لوگوں کو جواب دیا کہ جو عمران خان کی قیام گاہ ہے وہاں مجھے جانے کی اجازت نہیں ہے، وہاں جانے والے ملازمین دوسرے ہیں، جس کے بعد ان لوگوں نے اس سے کہا کہ کسی ایسے ملازم کو ہمارے ساتھ ملواؤ جس کی عمران خان کی قیام گاہ تک رسائی ہے۔
رہنما تحریک انصاف نے مبینہ طور پر ملزم سے برآمد ہونے والی ڈیوائس بھی میڈیا نمائندوں کو دکھائی اور بتایا کہ یہ ایک بہت حساس ڈیوائس ہے جس میں ایک طاقتورمائیک لگا ہوا ہے جو معمولی آواز کو بھی سن کر آگے پہنچا دیتا ہے، پہلے مرحلے میں آڈیو ڈیوائس لگائی گئی اس کے بعد کوئی بارودی ڈیوائس لگانے کی منصوبہ بندی بھی ہوسکتی ہے۔
شہباز گل نے کہا کہ پارٹی وکلاء کا موقف تھا کہ اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے تاہم عمران خان نے کہا کہ یہ ملزم ایک غریب آدمی ہے، میں ساری زندگی غریب آدمی کے ساتھ کھڑا ہوا ہوں، اصل مجرم وہ ہیں جنہوں نے پیسے دے کر اس کو خریدا، اس کی جان بچانے کیلئے ہمیں یہ معلومات شیئر کرنی پڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مبینہ طور پرجاسوسی کرنے والے شخص کو معاف کردیا ہے، اس کو خریدنے والے لوگوں کو ہمارا پیغام ہے کہ گھروں کے تقدس کو پامال نہیں کیا جانا چاہیے۔



