اہم خبریںپاکستان

تحقیقات میں مبینہ مداخلت کے معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم نظر رکھیں گے کہ کوئی ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے اعلیٰ شخصیات کی جانب سے تحقیقات میں مبینہ مداخلت کے معاملے پر از خود نوٹس پر سماعت کی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ نے ای سی ایل رولز کے حوالے سے منظوری دی؟، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی میں معاملہ زیرغور ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جسے سرکاری کام سے باہر جانا ہے اسے اجازت ہونی چاہیے، حکومت بنانے والی اکثریتی جماعت اسمبلی سے جاچکی ہے، یہ کسی کے لئے فائدہ اٹھانےکا موقع نہیں ہے، یکطرفہ پارلیمان سےقانون سازی بھی قانونی تقاضوں پر ہونی چاہیے۔

جسٹس عمر عطا بنديال نے ریمارکس دیئے کہ ملک اس وقت معاشی بحران سے گزررہا ہے، سسٹم چلنے دینےکے لئےسب کو مل کر کام کرنا ہوگا، ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے حکومت کو مشکلات ہوں، ہم نظر رکھیں گے کہ کوئی ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔

سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ واضح بات کے بجائے ہمیشہ ادھر ادھر کی سنائی جاتی ہیں، سمجھ نہیں آ رہی حکومت کرنا کیا چاہتی ہے، لگتا ہے حکومت بہت کمزور وکٹ پر کھڑی ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے 42 ہائی پروفائل کیسز کا ڈیجیٹل ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔

نیب نے ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ جمع کرانےکے لئے 2 ہفتوں کاوقت مانگ لیا، عدالت نے نیب کومہلت ديتے ہوئے سماعت 27 جون تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button