

ڈپٹی انسپکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سید خرم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ایران سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔ کراچی صدر دھماکے کے ماسٹر مائنڈ اللہ ڈینو کو ایران سے فون کالز کے ذریعے ہدایت ملیں جس کی ویڈیو موجود ہے۔
یہ بات ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سید خرم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ صدر دھماکے کا گذشتہ روز مارا جانے والا ملزم اللہ ڈینو ایران سے تربیت لے کر آیا تھا۔ دہشت گردی کے واقعے اور دھماکوں میں مالی معاونت بھارت سے ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات ایران سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔ فون کالز ایران سے آرہی تھیں۔ اللہ ڈینو آئی ای ڈی بم بنانے کا ماہر تھا جسے ایران سے ایس آر اے کے سربراہ اصغر نے ہدایت دیں۔ بم دھماکے سے متعلق حاصل شدہ ویڈیو میں دہشت گرد کو ایران سے حکم لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی، اللہ ڈینو نے ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا۔ اللہ ڈینو دہشت گردی میں ملوث تھا اور موقع پر موجود تھا۔
مرتضٰی وہاب نے کہا کہ شواہد پر تفتیش چل رہی تھی کہ اسی دوران ایس آر اے نے دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کی۔ آپریشن میں 12 مئی سے اب تک مل کر ادارے کام کررہے تھے۔ 18 مئی کو سی ٹی ڈی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہمراہ کارروائی کی، 12 مئی کو دھماکے میں ایک شہری جاں بحق ہوا اور کئی زخمی ہوئے۔



