
سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری پر اسلام آباد میں حملہ کیا گیا۔ حملہ آوروں اور حامیوں میں کرسیاں چل گئیں، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے صورت حال کو قابو میں کیا۔
واقعہ اسلام آباد کے علاقے ایف سکس کوہسار مارکیٹ میں واقع کافی شاپ میں پیش آیا، جہاں قاسم سوری سحری کیلئے بیٹھے تھے کہ چند نوجوان حملہ آور ہوگئے اور باہر نکل کر بھی کرسيوں سے نشانہ بنايا۔ مشتعل افراد کے حملے کے دوران ايک کارکن پرتشدد بھی کيا گيا، جب کہ قاسم سوری بھی تشدد کی زد ميں آئے۔
بعد ازاں حملہ آوروں اور قاسم سوری کے ساتھی ہوٹل سے باہر آئے اور کرسياں اٹھا کر ایک دوسرے پر پھينکیں۔ اس دوران ہوٹل ميں موجود شہريوں نے بيچ بچاؤ کرايا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پوليس کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی اور صورت حال کو قابو میں کیا۔
واقعہ سے متعلق قاسم سوری کا کہنا تھا کہ آج سحری کیلئے ہوٹل میں بیٹھا تھا کہ کچھ لوگ اچانک آئے انہوں نے حملہ کردیا، ہوٹل پر خواتین اور عام لوگ بھی موجود تھے، جیسے حملہ آور آئے، انہوں نے بدتمیزی شروع کی، تو لوگوں کا سخت ردعمل سامنے آیا، ہوٹل میں موجود عام لوگوں نے حملہ آوروں کو روکا تو الٹا انہیں گالیاں دیں۔
سابق ڈپٹی اسپیکر نے مزید کہا کہ لوگوں نے حملہ آوروں کو کرسیاں مار مار کر وہاں سے بھگایا، ہوٹل کے ویٹرز تک نے بھی حملہ آوروں کو مارا۔
واقعہ سے متعلق کا مزید کہنا تھا کہ یہ میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں، لوگوں نے ان کے اصل چہرے پہچان لئے ہیں، میں عوام کا مشکور ہوں جنہوں نے حملہ آوروں کو سخت جواب دیا۔ حملے کے بعد قاسم سوری اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال گئے ، جہاں انہوں نے اپنا طبی معائنہ کرایا۔



