
کراچی سے اغواء ہونے والی 14سالہ لڑکی دعا زہرہ 5 روز بعد بھی بازیاب نہ ہو سکی
کراچی کے علاقے ملیر الفلاح سے مبینہ طور پر اغواء کی گئی 14سالہ نوجوان دعا زہرہ 5 روز بعد بھی بازیاب نہ ہوسکی لیکن تحقیقات کے دوران پولیس کو اہم شواہد ملے ہیں۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دعا زہرہ کو اغواء نہیں کیا گیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہے۔
پولیس کو دعا کے گھر کے اطراف لگے سی سی ٹی وی فوٹیج سے اہم شواہد ملے ہیں، فوٹیج میں دعا اپنی مرضی سے سوزوکی میں جاتی دیکھی گئی ہے، فوٹیج دعا کے والد کو بھی دکھائی گئی لیکن انہوں نے کہا کہ یہ دعا نہیں ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فوٹیج پڑوسیوں کو دکھائی گئی تو انہوں نے تصدیق کی کہ یہ لڑکی دعا ہی ہے، لڑکی کے والد کے بھی متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں، والد کا کہنا ہے کہ دعا ساتویں جماعت کی طالبہ تھی اور ڈیڑھ سال سے اسکول نہیں گئی، تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ دعا تیسری جماعت سے اسکول ہی نہیں گئی۔
دوسری جانب بچی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او الفلاح سوسائٹی بدر شکیل کو عہدے سے برطرف کیا جائے جنھوں نے ایسی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی جس میں ہماری بیٹی نہیں بلکہ کوئی اور لڑکی تھی۔ ساتھ ہی پولیس نے میڈیا کے اداروں سے ویڈیو دوبارہ نہ نشر کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہ کہ اس ویڈیو کا مبینہ طور پر اغواء کی گئی 14سالہ بچی دعا زہرہ سے کوئی تعلق نہیں۔



