اہم خبریںپاکستان

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس غیر آئینی قراردے دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے آرڈیننس غیرآئینی قرار دیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس سےمتعلق درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔

ہائیکورٹ نے فیصلے میں ترمیمی آرڈیننس غیرآئینی قراردیتے ہوئے کالعدم قرار دیا۔

ہائیکورٹ نے ایف آئی اے سائبرونگ میں اشتہارات کے غلط استعمال کرنے والےافسران کے خلاف 30 دن میں تحقیقات مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے اور ریمارکس دئیے کہ ان اقدامات کی کوئی مناسب وجہ نہیں تھی۔

عدالت نے مزید کہا کہ آزادی رائے شہریوں کا بنیادی حق ہے اور بنیادی حقوق کا تحفظ آئین کے تحت یقینی بنانا ضروری ہے۔

ترمیمی آرڈیننس 2022کے علاوہ پیکا 2016میں پہلے سے موجود سیکشن 20کے تحت ہتک عزت پر سزا بھی غیر آئینی قرار دی گئی ہے۔

اس سے قبل جمعہ کو اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دئیے کہ لوگوں کے حقوق پامال ہورہے ہیں،کوئی توجواب دے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر ایف آئی ایف بابربخت کوکہا کہ عدالت کےسامنے ایس او پیز رکھے اوران کو ہی پامال بھی کیا گیا،آپ نے ایس او پیز کی پامالی کی اور وہ سیکشن لگائے جو لگتے ہی نہیں،یہ بتا دیں کہ کیسے اس سب سے بچا جا سکتا ہے۔

ڈائریکٹرایف آئی اے بابربخت نے عدالت کو بتایا کہ قانون بنا ہوا ہے اوراس پرعملدرآمد کرنے کیلئے دباؤآتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نےکسی عام آدمی کیلئےایکشن لیا،لاہورمیں ایف آئی آر درج ہوئی اوراسلام آباد میں چھاپہ مارا گیا۔

واضح رہے کہ 30 مارچ کو ہونے والی سماعت میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو پارلیمنٹ کے سامنےنہ رکھنا حکومت کی بدنیتی قراردیا تھا۔

چیف جسٹس نے ایف آئی اے پر شدید برہمی کا اظہارکرتےہوئےسیکشن 20 میں گرفتاری کےاختیار پر سوال اٹھایا تھا کہ اس کا جواز کیا ہے؟ ایک صحافی نے کتاب سے حوالہ دیا اوراس پر سیکشن 20 کیسے لگےگا ؟ اس سیکشن کو کالعدم قرار دینے کے لئے ایف آئی اے نے خود ہی ایک کیس بنا دیا۔

واضح رہے کہ قانونی سطح پر پی ای سی اے (پیکا) کا قانون 2016ء میں منظور کیا گیا تھا، یہ قانون اسٹاکنگ، بلیک میلنگ، آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں جیسے جرائم سے نمٹنے کیلئے متعارف کرایا گیا تھا اور اس پر عملدرآمد کرانے کی ذمہ داری ایف آئی اے کی ہے۔

 فروری 2022 میں حکومت نے جعلی خبروں اور نفرت انگیز مواد کا پھیلاؤ روکنے کیلئے پیکا ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ کیا تھا۔ من گھڑت خبر دینے پر قید کی سزا بڑھا کر 5 سال کرنے اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے سمیت دیگر تجاویز شامل کی گئی تھیں۔

ایڈووکیٹ چوہدری سعید ظفراورپاکستان فیڈرل یونین آف جرنسلٹ کی جانب سے پیکا ترمیمی آرڈیننس کولاہوراوراسلام آباد ہائیکورٹس میں چیلنج کیا گیا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا کہ آئین پاکستان جمہوری اقدار کو فروغ دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ آئین میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے، دنیا ترمیمی آرڈیننس تنقید کی حوصلہ شکنی کیلئے ہے۔

درخواست کے مطابق پیکا قانون اور اس میں ترمیم کو آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا جائے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ سینیٹ اجلاس کے ایک دن بعد حکومت نے پیکا قوانین میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کی۔ حکومت نے ڈرافٹ پہلے ہی تیار کرلیاتھا، قانون سازی سے بچنے کیلئے سیشن ختم ہونے کا انتظار کیا۔

پچیس فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج کردیں۔

 فیصلے میں قراردیا کہ پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعتیں معاملات وہاں حل کرنے کے بجائے عدالت لائیں تو ایوان کی بالادستی پر حرف آتا ہے۔دونوں جماعتوں کے پاس پارلیمنٹ میں آرڈیننس مسترد کرنے کا آپشن موجود ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پیکا قانون آزادی صحافت کے خلاف نہیں بلکہ صحافت کے نام پر بلیک میل کرنے والوں کے خلاف ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button