
فواد چوہدری اور شہباز گل کے بعد وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔
ایک روز قبل سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے 3 اپریل کے فیصلے کو کے کالعدم قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی کو پرانی حالت میں بحال کرنے اور تحریک عدم اعتماد کے لیے دوبارہ اجلاس بلانے کا حکم دیا تھا۔
شیریں مزاری نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں لکھا کہ گزشتہ رات ایک عدالتی مارشل لاء نافذ کیا گیا، عدالتی فیصلے میں پارلیمانی برتری کو ختم کرتے ہوئے یہ تک لکھوایا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کب اور کس وقت ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید لکھا کہ امریکا کی جانب سے حکومت کو تبدیل کرنے کا معاملہ جس نے ڈپٹی اسپیکر کو رولنگ پر مجبور کیا اسے سرے سے نظر انداز کر دیا گیا لیکن یہ اختتام نہیں ہے۔



