
اسمبلی جانے کے بجائے مقامی ہوٹل میں ہی علامتی اجلاس منعقد کرلیا، جس میں حمزہ شہباز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کرلیا گیا۔ اجلاس میں 211 اراکین شریک ہیں۔ مریم نواز کہتی ہیں کہ اجلاس علامتی نہیں بلکہ آئینی اور قانونی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے اسمبلی اجلاس بدھ کی شام ساڑھے سات بجے طلب کیا تھا، جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے انہیں غیر فعال کردیا گیا تھا۔
مسلم لیگ ن اور اپوزیشن سمیت جہانگیر ترین گروپ اور علیم خان گروپ کے اراکین پنجاب اسمبلی لاہور جانے کیلئے گلبرگ کے نجی ہوٹل میں جمع ہوئے جہاں سے انہیں ٹولیوں کی شکل میں پنجاب اسمبلی کیلئے روانہ ہونا تھا۔
لاہور کے مقامی ہوٹل سے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف اور وزیراعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز شریف اور کئی اراکین اسمبلی بس میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تاہم وہ پنجاب اسمبلی جانے کے بجائے دوسرے مقامی ہوٹل میں پنجاب اسمبلی کے علامتی اجلاس میں پہنچ گئے۔
اپوزیشن اراکین نے اب پنجاب اسمبلی جانے کا پروگرام تبدیل کرتے ہوئے لاہور کے مقامی ہوٹل میں ہی پنجاب اسمبلی کا علامتی اجلاس بلالیا، جس کی صدارت پینل آف چیئر شازیہ عابد کررہی ہیں، اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین، پاکستان تحریک انصاف کے جہانگیر ترین گروپ اور علیم خان گروپ کے اراکین سمیت 211 ارکان موجود ہیں تاہم حکومتی اراکین اس اجلاس میں شریک نہیں ہیں۔
مقامی ہوٹل میں ہونیوالے علامتی اجلاس میں اپوزیشن کے متفقہ امیدوار حمزہ شہباز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کرلیا گیا، اجلاس میں پیش کی گئی قرار داد کی 199 اراکین نے حمایت کردی۔
MNS live with us 🥰 Sherrrrrrr 🐅🐅🐅🐅 pic.twitter.com/kYmScCYbLz
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) April 6, 2022
پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رکن پنجاب اسمبلی علیم خان بھی اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ نجی ہوٹل پہنچے۔
علیم خان نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بھی پی ٹی آئی راہ فرار اختیار کرچکی، اب شکست یقینی ہے، ہم ڈٹے ہوئے ہیں، پیچھے نہیں ہٹیں گے، اب حقیقی تبدیلی آئے گی، حکومت اپنی اکثریت ثابت کرے یا اپوزیشن میں بیٹھے۔



