
عدم اعتماد کی تحریک مسترد کرنے اور قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے خلاف بار کونسل نے آج بروز پیر 5اپریل کو سندھ اور پنجاب بھر کی عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
وائس چیئرمین سندھ بار کونسل ذوالفقار جلبانی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد غیر آئینی طریقے سے مسترد کی گئی، جب کہ صدر کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کا عمل بھی غیر قانونی ہے، جس پر سندھ بار کونسل عدالتوں کے بائیکاٹ کرے گی۔
اعلامیہ میں صوبے بھر کے وکلاء سے آج عدالتوں میں پیش نہ ہونے اور اپنے اپنے علاقوں میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کا کہا گیا ہے۔
اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے وکلا ہمیشہ آئین اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں۔ وکلا آج بطور احتجاج عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے۔
دوسری جانب پنجاب بھر کی ماتحت عدالتوں میں بھی وکلا نے آج پیش نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب بار کونسل کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام کے خلاف پنجاب بار کونسل آج ہڑتال کرے گی۔
پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین سید جعفر طیار بخاری،چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی چوہدری عرفان سعید ودیگر ممبران نے کہا کہ وکلاء ہمیشہ قانون اور آئین کی بالادستی کیلئے کھڑے ہوئےہیں کسی قسم کے غیر آئینی اقدامات کی حمایت نہیں کرینگے،پنجاب بار کونسل آج5 اپریل کو صوبے بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کریگی۔
سندھ اور پنجاب کی بار کونسلز میں احتجاج کے باعث سائلین کو مشکلات کا سامنا رہا اور کئی اہم کیسز کی سماعت نہ ہوسکی۔
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی قرار داد منظور کرلی ہے۔ قرارداد میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد کے بطور نگراں وزیراعظم نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
قرار داد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو ماہ قبل ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس کی نامزدگی سے عدلیہ متنازعہ ہوگی۔ سیکریٹری جنرل عمر سومرو کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ صدر نے اسمبلیاں تحلیل کرکے غیر آئینی اقدام اٹھایا۔ ڈپٹی اسپیکر کو رولنگ کا اختیار نہیں تھا۔ سپریم کورٹ آئینی بحران پر فل کورٹ بینچ تشکیل دے۔
قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیراعظم کے کہنے پر ڈپٹی اسپیکر اور صدر مملکت نے غیر آئینی کام کیا۔ ممبران اسمبلی کو سنے بغیر تحریک عدم اعتماد مسترد نہیں ہوسکتی۔ وکلا برادری غیر قانونی اقدام کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔



