
امریکی محکمہ خارجہ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کے خلاف بیرون ملک سے آنے والے دھمکی آمیز خط کے حوالے سے کہا ہے کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کو وزیراعظم کی جانب سے کی جانے والی تقریر کے حوالے سے ایک سوالنامہ بھیجا گیا تھا۔
واضح رہے کہ عمران خان نے اتوار کے دن وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے جلسہ عام میں ایک کاغذ کو لہراتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ وہ خط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کے پرانے لیڈروں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہمیں دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بانی پی پی ذوالفقار علی بھٹو کا بھی حوالہ دیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ خارجہ پالیسی کو مروڑنے کی باہر سے کوشش کی جا رہی ہے، اس سازش کا ہمیں پچھلے کئی مہینوں سے پتہ ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کو بذریعہ ای میل بھیجے گئے سوالنامے میں پوچھا گیا تھا کہ کیا امریکی محکمہ خارجہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ بیان سے واقف ہے؟ کیا محکمہ خارجہ نے بذریعہ اسلام آباد سفارت خانہ پاکستان سے اس حوالے سے کوئی رابطہ کیا ہے؟
بھیجے جانے والے سوالنامے کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔



