اہم خبریںپاکستان

وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتمادپیش

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شريف نے وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحريک عدم اعتماد پيش کردی۔ قواعد کے مطابق تحریک پر ووٹنگ ایک ہفتہ کے دوران کرنا ضروری ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پیش کی، تحریک پیش کرنے کیلئے 161 اراکین نے حمایت کی۔ قواعد کے مطابق 3 سے 7 روز کے اندر ووٹنگ ہوگی۔

تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 31 مارچ تک ملتوی کردیا، جمعرات تحریک عدم اعتماد پر بحث ہوگی۔

متحدہ اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے 172 ووٹ درکار ہیں اور اس سلسلے میں متحدہ اپوزیشن نے اتحادی جماعتوں اور ناراض حکومتی ممبران اسمبلی کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ اپوزیشن حکومت یا اتحادی جماعتوں کے  10 ارکان کے ووٹ لینے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو تحریک کامیاب ہوجائے گی۔

قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جب کہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن  شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

اجلاس کے 27 نکاتی ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد کے علاوہ وقفہ سوالات، قائمہ کمیٹیز کی رپورٹس اور توجہ دلاؤنوٹسز بھی شامل تھے جبکہ جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد بھی پیش کی جانی تھی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button