

گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان نے کہا تو صوبے میں گورنر راج لگانا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر مملکت میرے باس ہیں وہ جو کہیں گے مجھے کرنا ہوگا، اگر وہ گورنر راج لگانے کا کہتے ہیں تو لگانا ہوگا تاہم اس وقت عدم اعتماد کا معاملہ چل رہا ہے اور یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ لوگ ہمیں ساتھ کھڑا کرکے سیاسی سوالات کریں، اس لیے اب گورنر راج والی بات کو یہیں ختم کردیں۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ آج کل ضمیر کے جاگنے اور سونے کا سیزن آیا ہوا ہے۔ ایم کیو ایم ، ق لیگ اور بی اے پی اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں ، منحرف اراکین نے جو کیا میرے نزدیک وہ غداری ہے، ایسی قانون سازی ہونی چاہیے کہ وہ ایسی جرات نہ کریں۔
یاد رہے کہ وفاقی دارالحکومت میں واقع سندھ ہاؤس میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان قومی اسمبلی کی موجودگی کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی جانب سے صوبہ سندھ میں گورنر ہاؤس لگانے کی تجویز دی سامنے آئی تھی، تاہم وزیراعظم کی زیر صدارت بنی گالہ میں ہونے والے سیاسی کمیٹی کے اہم مشاورتی اجلاس میں سندھ میں گورنر راج نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوئے اس اجلاس میں وزیرداخلہ شیخ رشید نے صوبہ سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی سمری پیش کی ، اجلاس میں شیخ رشید سمیت 2 وفاقی وزراء نے سندھ میں گورنر راج کی حمایت کی، جب کہ ارکان کی اکثریت نے گورنر راج کی مخالفت کی اور اکثریت کی رائے یہ تھی کہ سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور سندھ میں گورنر راج کے نفاذ سے معاملات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔



