
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے فضل الرحمان پر حیرت ہے لاٹھیوں کی بات کر رہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ عدم اعتماد ملکی عدم استحکام کی جانب لے جائے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا احترام کرتے ہیں آپ دین کے رہنما ہیں لیکن جو زبان آپ استعمال کر رہے ہیں اس سے اگر ملک میں خانہ جنگی اور انارکی ہوئی تو اس کی قیمت آپ کو ادا کرنی ہوگی۔ ایسا نہ ہو کہ عدم اعتماد ملک کو عدم استحکام کی جانب لے جائے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عمران خان جیتے یا ہارے فائدہ عمران خان کا ہی ہوگا، عمران خان انشااللہ جیتیں گے، تین ہفتوں کے دوران عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
فضل الرحمان کے بیانات اور دھمکی پر وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ فضل الرحمان پر حیرت ہے لاٹھیوں کی بات کر رہے ہیں، فضل الرحمان ن لیگ اور پیپلزپارٹی نکل جائیں گی آپ دھر لیے جائیں گے، فضل الرحمان کو ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا پتا ہے ، سب کی پرانی تاریخ یہ ہے کہ یہ مل کے کھیلتے ہیں، فضل الرحمان وحشی جٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں، اگر ملک میں خانہ جنگی ہوئی، تو ذمہ دار مولانا فضل الرحمان ہوں گے۔
شیخ رشید نے کہا کہ کسی کو قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، نہ ہم آپ چھیڑیں گے نہ آپ قانون کو چھیڑیں گے، اگر آپ قانون کو چھیڑیں گے تو ہم آپ کو چھوڑیں گے نہیں، چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اتحادیوں سے بات چیت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسد عمر اور دیگر ق لیگ سمیت تمام اتحادیوں سے بات چیت کر رہے ہیں، مجھے امید ہے ق لیگ اور اتحادی عمران خان کا ساتھ دیں۔ میرا مذاکرات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، ان اتحادیوں سے عمران خان کا ساتھ دینے کی درخواست ضرور کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ 25 مارچ سے سیاست کھل کر سامنے آجائے گی، اتحادیوں کا بھی علم ہوجائے گا کہ کون حکومت کے ساتھ ہے اور وقت عمران خان کی مقبولیت کا دور بھی شروع ہوجائے گا۔ میں یہ بات حلفاً کہنے کو تیار ہوں کہ عمران خان پچھلے تین ہفتوں میں عوام میں زیادہ مقبول ہوئے ہیں۔ پورا پاکستان عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے اور الیکشن کے نتائج پر یہ بات سب کو معلوم ہوجائے گی، میں سیاسی بصیرت میں عمران خان کو جتتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ ایک موقع پر انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ اور اسٹیبلشمینٹ کا رابطہ رہتا ہے، سیاست میں ان کا کردار نہیں، اچھی بات ہے اسٹیبلشمینٹ کا کردار نہیں ورنہ کل کو یہ روئیں گے کہ ہارے کیوں؟۔
انہوں نے کہا کہ میں 3 ماہ سے کہہ رہا ہوں آپ 23 کو نہیں 25 مارچ کو اسلام آباد پہنچیں گے، آپ ہماری انتظامیہ سے بات کریں وہ آپ کو محفوظ راستے فراہم کرتے ہوئے مکمل سیکیورٹی دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے پہلے بھی جلسہ کیا تھا، اگر آپ بھی 27 مارچ کو بھی جلسہ کرنا چاہتے ہیں تو کریں، کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن کسی شخص کو قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا وزارت داخلہ کا کام ہے اور ہم یہ کام کر کے دیکھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ پاکستان کو اندورنی و بیرونی خطرات ہیں، اور سیکیورٹی خدشات کو دیکھنا صرف کا حکومت کا ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کا کام بھی ہے، کہی ایسا نہ ہو کہ عدم استحکام ملکی اور جمہوری عدم اطمینان کی طرف منتقل ہوجائے۔
وفاقی وزیر کے مطابق ایسا ہوا تو اس کی سزا آپ کو ملے گی، آپ 10 سال تک چوکوں میں اذانیں دیں گے آپ کی بات نہیں سنی جائے گی، پاکستان قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنا ہے، پاکستان کی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے باصلاحیت ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ نسلی اور اصلی لوگ عمران خان کیساتھ کھڑے ہوں گے، اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد لانے کا حق ہے، اسپیکر 63 اے کے تحت کسی بھی ممبر کا ووٹ منسوخ کرسکتے ہیں۔ 63اے کی خلاف ورزی کرنے والا ووٹ نہیں ڈال سکے گا۔ 27مارچ کو اتوار ہے،ا س دن عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں ہوگی، 20 مارچ سے 2 اپریل تک رینجرز، ایف سی کو اختیارات دے رہا ہوں۔



