
پارلیمنٹ حملہ کیس میں صدر عارف علوی سمیت تمام نامزد ملزمان بری کردئیے گئے۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی بریت کی 82 درخواستوں پرفیصلہ سنایا۔
پارلیمنٹ حملہ کیس میں صدر ڈاکٹر عارف علوی سمیت اسد عمر،پرویز خٹک، شفقت محمود ، شاہ محمود اور جہانگیر ترین کو بھی بری کردیا۔اس کیس میں اعجاز چوہدری، سیف اللہ نیازی اور راجہ خرم نواز بھی بری کر دیئے گئے۔
واضح رہے کہ اگست سال 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے سال 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تھا جس کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنان نے پولیس رکاوٹیں توڑ کر وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی۔
اس دوران کارکنوں کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ مشتعل کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم میں 3 افراد جاں بحق 560 سے زائد زخمی بھی ہوئے تھے۔
اس سے قبل 3 نومبر 2020 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سال 2013 میں پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاؤس حملہ کیس میں وزیراعظم عمران خان کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں بتایا گیا کہ حملہ سال 2013 کو 30اگست کی رات 10بج کر 15منٹ پر ہوا، جب کہ اس کا مقدمہ دوسرے روز درج کروایا گیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تھانہ 2 کلو میٹر سے کم فاصلے پر ہونے کے باوجود واقعہ کا مقدمہ 16 گھنٹے بعد درج کروایا گیا جب کہ مقدمہ فوری درج نہ کرانے کی معقول وجہ ریکارڈ پر نہیں لائی جاسکی۔
تحریری فیصلے میں درج تھا کہ عمران خان کے خلاف قتل، اقدام قتل، دہشت گردی یا دیگر جرائم کا الزام نہیں۔ عمران خان پر بطور سربراہ سیاسی جماعت کارکنان کو اکسانے کا الزام ہے۔
جج راجہ جواد عباس نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ عمران خان پر کارکنان کو پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاؤس پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ کیس میں عمران خان کی تقریر کی ویڈیو ریکارڈنگ یا ٹرانسکرپٹ کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
تحریری فیصلے میں درج تھا کہ عمران خان نے کارکنوں کو پتہ تک نہ توڑنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے منع کیا تھا۔ عمران خان پر سرکاری املاک اور اداروں پر حملے کیلئے مشتعل کرنے کے الزامات ناکافی ہیں۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ پراسیکیوشن کے مطابق 21 ہزار کارکنوں کو وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی کی ہدایات دی گئیں۔ چند وجوہات کی بنا پر وقوعہ کا مقدمہ صرف 131 لوگوں کے خلاف درج کیا گیا۔
تحریری فیصلے میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ تھا تو 21 ہزار لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی، تو دفعہ144کے باوجود ریڈ زون میں داخل ہو کر دھرنا دینے کی اجازت کیوں دی گئی؟۔
ملزمان کے خلاف خاص جرم کے تحت نہیں بلکہ عمومی نوعیت کے مقدمات درج کیے گئے۔ پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ مقدمہ سیاسی مخالفت میں درج کیا گیا۔ ایسے شواہد نہیں جو پراسیکیوشن کے کیس کو فائدہ دے سکیں۔
پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ کیس کو مزید چلانا عدالتی وقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔



