
اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کو برطرف کرنے کے لئے ایوان میں تحریکِ عدم اعتماد پیش کردی ۔
تحریکِ عدم اعتماد کیا ہے ؟
Motion Of No Confidence
عدم اعتماد ایک ایسی تحریک یا قرارداد ہے جو اس وقت ایوان میں پیش کی جاتی ہے جب کوئی وزیراعظم یا وزیراعلیٰ ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو دے
ایسی صورت میں ایوان کے ارکان آئین پاکستان کے آرٹیکل 95 کے تحت وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا سکتے ہیں ۔
تحریکِ عدم اعتماد کس طرح کامیاب ہوتی ہے ؟
آئین کی اس شق کے تحت تحریک عدم اعتماد کے لیے قومی اسمبلی کے کل ممبران میں سے کم از کم 20 فیصد اراکین کے دستخط کے ساتھ ایک تحریری قرارداد اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروانا ہوتی ہے۔
ایوان میں اپوزیشن اور حکومت کی موجودہ اکثریت ۔۔۔
اس وقت قومی اسمبلی کے 342 کے ایوان میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے172 ارکان کی حمایت درکار ہے۔
قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق حکومتی جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155، ایم کیو ایم کے سات، بی اے پی کے پانچ، مسلم لیگ ق کے بھی پانچ اراکین، جی ڈی اے کے تین اور عوامی مسلم لیگ کا ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہے
دوسری جانب حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔
ان میں مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلزپارٹی کے 57، متحدہ مجلس عمل کے پندرہ، بی این پی کے چار جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ دو آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔
ماضی میں کب اور کس کے خلاف عدم اعتماد پیش کی گئی ؟
ماضی میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلیوں میں پیش کی جانے والی تحاریکِ عدم اعتماد پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلے عدم اعتماد کی تحریک قیامِ پاکستان کے دس سال بعد 1957 میں ملک کے چھٹے وزیرِاعظم آئی آئی چندریگر کے خلاف پیش کی گئی ۔ صرف 55 روز کی انتہائی قلیل مدت تک وزیرِاعظم رہنے والے ابراہیم اسماعیل چندریگر کے خلاف یہ تحریک عدم اعتماد کامیاب رہی، جسکے بعد ان کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہونا پڑا ۔
مئی 1986 میں قومی اسمبلی میں اسپیکر سید فخر امام کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جو کامیاب رہی۔
سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف قومی اسمبلی میں نومبر 1989 میں تحریک عدم اعتماد لائی گئی جو صرف 12 ووٹوں سے مسترد ہوئی۔
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں وزیر اعظم شوکت عزیز کو ہٹانے کےلئے2006 میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی لیکن اپوزیشن کو کامیابی نہ مل سکی۔
صوبہ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری کے خلاف 2018 میں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی، تاہم انہوں نے ووٹنگ سے پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
2019 میں سینیٹ کے چیئرمین محمد صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جو ناکامی سے دوچار ہوئی۔



