اہم خبریںپاکستان

فیصل واوڈانےتاحیات نااہلی کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

 پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے تاحیات نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کا اختیار نہیں رکھتا، قانون واضح ہے کہ شواہد ریکارڈ کیے بغیرآرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں کیاجا سکتا۔

درخواست میں یہ بھی بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن فیصلہ کرتے وقت بیان حلفی کےالفاظ پرغلط فہمی کا شکار ہوا، فیصل واوڈا نےالیکشن کمیشن سےکچھ نہیں چھپایا اور منسوخ شدہ امریکی پاسپورٹ بھی جمع کرایا تھا۔

انھوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ امریکی شہریت پیدائش کے وقت ملی تھی اوریہ بعد میں حاصل نہیں کی گئی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دوہری شہریت پر نااہلی آرٹیکل 63 کے تحت ہو سکتی ہے، دوہری شہریت پرآرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق کسی صورت نہیں ہوتا اوراسلام آباد ہائیکورٹ نے عجلت میں فیصلہ کیا اور حقائق اور قانونی نکات کا درست جائزہ نہیں لیا۔

سولہ فروری کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصل واوڈا کی نااہلی کےخلاف اپیل مسترد کردی تھی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا گیا کہ فیصل واوڈا کا اپنا کنڈکٹ ہی موجودہ نتائج کا باعث بنا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا اپنے فیصلے میں یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں مداخلت کی وجہ موجود نہیں، طویل عرصے تک کمیشن اور کورٹ کے سامنے فیصل واوڈا تاخیر کرتے رہے، انہوں نے شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع کروانے سے بھی انکار کیا، انہیں چاہئے تھا کہ دُہری شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع کرواکر نیک نیتی ثابت کرتے۔

دائر درخواست میں فیصل واوڈا نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔الیکشن کمیشن کو بارہا کہا کہ نااہلی درخواست سننا اس کا اختیار نہیں۔

الیکشن کمیشن کو بارہا یہ بھی بتایا کہ کمیشن کورٹ آف لاء نہیں ہے اور الیکشن کمیشن میں جان بوجھ کرکوئی جھوٹا بیان حلفی نہیں دیا۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالے بھی نہیں دیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button