
وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے وزیراعظم عمران خان کو تجویز دی ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے رواں سال 8 مارچ کو ملک میں ’’عورت مارچ‘‘ کے بجائے ’’بین الاقوامی یوم حجاب‘‘ منانے کا اعلان کیا جائے۔
وفاقی وزیر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے نام 9فروری کو ایک مراسلہ بھیجا گیا ہے جس میں عورت مارچ کے بجائے بین الاقوامی یوم حجاب منانے کی تجویز سامنے آئی اور خط میں کہا گیا کہ اس موقع پر سرکاری طور پر دنیا بھر میں بسنے والی ان مسلمان خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے جنہیں اپنی مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے سخت جدوجہد کا سامنا ہے۔
نور الحق قادری نے مراسلے میں لکھا ہے کہ بظاہر تو عورت مارچ کو حقوق نسواں کے تحفظ کا عنوان دیا گیا ہے لیکن اس عورت مارچ میں جس طرح کے بینرز، پلے کارڈز، اور نعروں کا اظہار کیا جاتا ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید مسئلہ حقوق نسواں سے زیادہ اسلام کی طرف سے دیے گئے نظام معاشرت کا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کی اکثریت اصولی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کے خواہشمند ہیں۔ پاکستانی کی عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اسلام کی طرف سے عورت اور مرد کو ملنے والے حقوق اور ذمہ داریاں اللہ تعالی کے علم مطلق، حکمت، اور آفاقیت کی آئینہ دار ہیں۔
وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ آئندہ 8مارچ کو منائے جانے والے ’’یوم خواتین‘‘ میں کسی بھی طبقے کو ’’عورت مارچ‘‘ یا کسی بھی دوسرے عنوان سے اسلامی شعائر، معاشرتی اقدار، حیاء وپاکدامنی، پردہ وحجاب وغیرہ پر کیچڑ اچھالنے یا ان کا تمسخر ومذاق اڑانے کی ہر گز اجازت نہ دی جائے کیونکہ ایسا کرنا مسلمانان پاکستان کے لیے سخت اذیت، تکلیف اور تشویش کا باعث بنتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ عورت مارچ، حیا مارچ، خواتین مارچ یا کسی بھی دوسرے عنوان سے ریلیاں، جلسے اور پروگرامات منعقد کروانے والوں کو عورت کے حقیقی مسائل خاص طور پر عورت کا میراث میں حق، گھریلو تشدد، دفاتر اور کام کی جگہوں پر ہراسگی اور ضروری وسائل کی عدم دستیابی، عورتوں کی تعلیم، جبری نکاح، بیوہ اور یتیم کی کفالت اور ان کا تحفظ، جنسی استحصال، نان ونفقہ کی فراہمی وغیرہ جیسے مسائل پر روشنی ڈالنے اور ان موضوعات پر حکومت کے لیے تجاویز اور آراء پیش کرنے کی ترغیب دی جائے۔
مزید یہ بھی تجویز دی گئی کہ ’’بین الاقوامی یوم حجاب‘‘ کی مناسبت سے تمام دنیا خاص طور پر اقوام متحدہ کو بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مسلم خواتین خاص طور پر طالبات کے ساتھ ان کے لباس کی وجہ سے ہونے والے امتیازی سلوک کی طرف متوجہ کیا جائے۔
بین الاقوامی برادری سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کا خیال رکھتے ہوئے ہندوستان کی حکومت سے اس امتیازی رویے کو ختم کرائے۔
وفاقی وزیر کی تجویز ہے کہ ملک بھر میں (وفاق اور صوبوں میں) سرکاری اور عوامی سطح پر ’’بین الاقوامی یوم حجاب‘‘ منانے کے لیے پروگرامات منعقد کیے جائیں اور اس سلسلے میں وزارت انسانی حقوق اور وزارت اطلاعات و نشریات کو جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔



