اہم خبریںپاکستان

وزیراعظم نے کن 5 صحافیوں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے؟ سلیم صافی کا بڑا انکشاف

سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پانچ صحافیوں کی گرفتاری کیلئے شواہد جمع کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

سلیم صافی نے جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خاندازہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور ان کے سابقہ دوست محسن بیگ کے درمیان ناراضی کی وجوہات بھی بتادیں۔

سلیم صافی نے بتایا کہ محسن بیگ کا دعویٰ ہے وہ وزیراعظم کے رویے اور ان کے طرز حکمرانی کو دیکھ کر مایوس ہوگئے تھے، جبکہ جیو اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان اور ڈان نیوز کے حمید ہارون کی گرفتاری کے احکامات ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ میڈیا سے تعلق نہیں بگاڑنا چاہیے، اس کے بعد انہوں نے وزیراعظم کو میسیج کرکے رابطہ ختم کردیا۔

سلیم صافی کے مطابق حکومتی ترجمانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ محسن بیگ ایک روسی کمپنی کیلئے ٹھیکہ لینا چاہتے ہیں، لیکن ان کی بات نہیں مانی گئی تو وہ ناراض ہوگئے اور وزیراعظم عمران خان کیخلاف مہم شروع کردی۔

سلیم صافی نے دعویٰ کیا ہے کہ محسن بیگ کو ایک سال پہلے ایف آئی اے کے ذریعے علم ہوچکا تھا کہ وزیراعظم نے ان کیخلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں جس کے بعد وہ کئی ماہ لندن میں رہے اور واپس آنے کے بعد وہ حکومت کیخلاف سرگرم ہوگئے۔

انہوں نے نہ صرف ٹاک شوز میں حکومت کیخلاف باتیں کیں بلکہ حکومت مخالف سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں شروع کردیں۔

سلیم صافی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم کا یہ خیال تھا کہ محسن بیگ عملی اور سیاسی طور پر ان کیخلاف متحرک ہوگئے ہیں کیونکہ جہانگیر ترین سے ان کی دوستی ہے اور لیگی قیادت کے بھی خاصے قریب ہوگئے ہیں۔

سلیم صافی نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے صرف محسن بیگ ہی نہیں بلکہ میری(سلیم صافی)، نجم سیٹھی، حامد میر، عاصمہ شیرازی اور مرتضیٰ سولنگی جیسے لوگوں کیخلاف مواد جمع کرکے ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کو مراد سعید اور بشریٰ بی بی کی کردار کشی کی مہم چلانے والے 80 افراد کے نام موصول ہوچکے ہیں جن میں سے 6 افراد کو اب تک گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی کی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button